سینئر صحافی و تجزیہ کار صالح ظافر نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کی سیاست، حالیہ حکومتی مذاکرات، خیبر پختونخوا کے نئے انتظامی بندوبست، بلوچستان میں حکومت سازی، تحریک انصاف اور دہشت گردی سے متعلق ان کے مؤقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان بنیادی طور پر ایک ایسے سیاستدان ہیں جو سیاسی مواقع سے فائدہ اٹھانے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ ان کے بقول مولانا کی حالیہ ناراضی کے پس منظر میں اصولی اختلاف سے زیادہ اقتدار میں حصہ نہ ملنے کی مایوسی کارفرما ہے۔
آزاد ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے صالح ظافر نے کہا کہ فضل الرحمان کو صرف مذہبی رہنما سمجھنا ان کی سیاسی شخصیت کا نامکمل تجزیہ ہوگا کیونکہ وہ مولانا سے زیادہ سیاستدان ہیں اور موقع پرستی کی سیاست پر غیرمعمولی مہارت رکھتے ہیں۔
صالح ظافر نے حالیہ مذاکرات کے موقع پر فضل الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما جس والہانہ انداز میں ملے، اسے دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے صدیوں سے بچھڑے دو بھائی دوبارہ ایک دوسرے سے مل رہے ہوں۔
ان کے مطابق اس غیرمعمولی گرم جوشی کے پیچھے فضل الرحمان کی سیاسی توقعات بھی موجود تھیں۔ مولانا کو بظاہر یہ تاثر ملا تھا کہ خیبر پختونخوا میں متوقع تبدیلی یا نئے انتظامی بندوبست کی صورت میں انہیں نمایاں سیاسی حصہ مل سکتا ہے۔ صالح ظافر نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان بالخصوص صوبے کی گورنر شپ اپنے سیاسی اثرورسوخ کے دائرے میں لانے کے خواہش مند تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں مولانا کے ایک قریبی عزیز بھی صوبے کے گورنر رہ چکے ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس حوالے سے بات کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا کو اگر گورنر شپ نہ بھی ملتی تو انہیں توقع تھی کہ نئی قائم ہونے والی کونسل یا انتظامی ڈھانچے میں ان کی جماعت کو خاطرخواہ نمائندگی دے دی جائے گی۔ تاہم جب یہ توقعات پوری نہ ہوئیں تو مولانا کا رویہ تبدیل ہوگیا۔
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا خیال تھا کہ خیبر پختونخوا میں بننے والا نیا انتظامی نظام ایک سیاسی بندوبست ہوگا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو حصہ ملے گا۔ صالح ظافر کے مطابق ایسا نہیں ہوا اور نئے بندوبست میں سیاسی جماعتوں کو براہ راست حصہ دینے کے بجائے ٹیکنوکریٹس پر انحصار کیا گیا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تاکہ انتظامی امور کو سیاسی مفادات سے الگ رکھا جاسکے۔ صالح ظافر نے ملک کے موجودہ نظام کو ہائبرڈ نظام قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان کے سیاسی حالات میں ایسا بندوبست بعض اوقات چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کرتا ہے۔
ان کے بقول اگر ملک کے سیاسی نظام کو کسی مخصوص طبقے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو ماضی کی طرح اختیارات کے غیرمحدود استعمال کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ممکنہ سیاسی بندوبست میں اپنے لیے اہم جگہ تصور کر رکھی تھی، لیکن ٹیکنوکریٹس کی بنیاد پر ہونے والی انتظامی تشکیل سے ان کی توقعات کو دھچکا پہنچا۔
صالح ظافر نے مولانا فضل الرحمان کے بدلتے ہوئے سیاسی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک روز پہلے تک وہ اسی نئے انتظامی بندوبست کے حامی دکھائی دیتے تھے، لیکن جیسے ہی واضح ہوا کہ اس میں انہیں کوئی حصہ نہیں مل رہا، انہوں نے تنقیدی بیانات دینا شروع کردیے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں صرف مولانا کو ہی نہیں بلکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو حصہ نہیں دیا گیا، اس لیے ان کی ناراضی کو کسی مخصوص جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
تجزیہ کار کے مطابق مولانا نے اس کے بعد یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی کہ وہ مذاکرات سے اٹھ کر آئے اور محض دو گھنٹوں کے اندر اہم فیصلے کرلیے گئے۔ صالح ظافر نے سوال اٹھایا کہ کیا مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف اور ملک کے سیاسی و انتظامی معاملات سے اتنے ناواقف ہیں کہ انہیں اس نوعیت کے فیصلوں کے پس منظر کا اندازہ نہیں تھا؟
انہوں نے یاد دلایا کہ شہباز شریف پہلی مرتبہ اسی سیاسی بندوبست کے دوران وزیراعظم بنے تھے جس میں مولانا فضل الرحمان بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کے مطابق اتنے عرصے تک نظام کے اندرونی معاملات سے واقف رہنے کے بعد اچانک سخت تنقید شروع کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
صالح ظافر نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مسلح افواج اور عسکری قیادت کے متعلق اختیار کیے گئے تنقیدی لہجے کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت سنگین سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، خطے میں دشمن قوتیں موجود ہیں اور قومی سلامتی کے ادارے مختلف محاذوں پر خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق ایسے ماحول میں سیاسی اختلافات کو عسکری اداروں کی قیادت کے خلاف شدید تنقید میں تبدیل کرنا قومی مفاد کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ صالح ظافر نے پاکستان کی جانب سے ایک دشمن کے خلاف حاصل کی گئی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقاریر میں اس کامیابی کا اعتراف نمایاں طور پر کیوں سنائی نہیں دیا؟
انہوں نے کہا کہ وہ اب تک مولانا کی زبان سے پاکستان کی اس کامیابی کے بارے میں وہ واضح اظہار نہیں سن سکے جس کی انہیں توقع تھی۔ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صالح ظافر نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف نئے انتظامی بندوبست کی مخالفت کرے گی، تاہم ان کے نزدیک صرف پی ٹی آئی کی سیاسی مخالفت اس بندوبست کے لیے فیصلہ کن رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کو طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ ایک سنگین سیاسی اور سیکیورٹی نوعیت کا الزام ہے جسے صالح ظافر نے اپنے تجزیے کے طور پر پیش کیا۔ گفتگو میں اس دعوے کے حق میں کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
صالح ظافر نے کہا کہ ان کے خیال میں خیبر پختونخوا کے حالات میں اصل مسئلہ دہشت گرد تنظیموں کا خوف اور اس سے پیدا ہونے والا سیاسی دباؤ ہے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان بھی اسی دباؤ سے متاثر ہیں اور وہ صوبے کے نئے انتظامی نظام کی کامیابی میں معاون دکھائی دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
صالح ظافر نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی کا خوف مولانا فضل الرحمان کے موجودہ سیاسی طرزِعمل پر اثرانداز ہورہا ہے۔ ان کے بقول مولانا ایسے کسی اقدام سے گریز کرنا چاہتے ہیں جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ خیبر پختونخوا کی نئی انتظامیہ کی کامیابی میں مدد دے رہے ہیں۔
انہوں نے مولانا کی سیاسی ناراضی کی دو بنیادی وجوہات بیان کیں۔ پہلی وجہ ان کے بقول دہشت گرد گروہوں کے ممکنہ ردعمل کا خوف ہے، جبکہ دوسری وجہ نئے بندوبست میں سیاسی حصہ ملنے کی امیدوں کا ٹوٹ جانا ہے۔
صالح ظافر کے مطابق ان دونوں عوامل نے مولانا کے سیاسی مؤقف کو سخت بنانے میں کردار ادا کیا۔ صالح ظافر نے کہا کہ ان کے تجزیے میں دہشت گردی اور طالبان سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا مؤقف تحریک انصاف کی پالیسی سے خاصی مماثلت رکھتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان طالبان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کرتے؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادتیں ایک انتہائی سنجیدہ قومی مسئلہ ہیں اور ملک کی اہم مذہبی و سیاسی قیادت کو اس بارے میں واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
صالح ظافر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی نہ صرف واضح مذمت کریں بلکہ شہدا کے حق میں بھی بھرپور آواز اٹھائیں۔
گفتگو کے دوران صالح ظافر نے تسلیم کیا کہ جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے متعدد علما بھی پرتشدد واقعات میں جانیں گنوا چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان واقعات کی نوعیت سے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ ان میں سے بہت سے واقعات کی بنیادی وجہ دہشت گردی کی مخالفت کے بجائے مسلکی اختلافات تھے۔
یہ صالح ظافر کا تجزیاتی مؤقف تھا، جس کی ہر انفرادی واقعے کے حوالے سے الگ تصدیق ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی مذہبی اور سیاسی حیثیت کے پیش نظر ان سے دہشت گردی کے خلاف زیادہ واضح اور غیرمبہم موقف کی توقع کی جاتی ہے۔
صالح ظافر نے گفتگو میں ایک سابقہ سیاسی تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی سے منسوب 25 کروڑ روپے کی ادائیگی کے عوض نشستیں حاصل کرنے کے الزام کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا سنگین الزام سامنے آنے کے باوجود مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس کا تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا۔
صالح ظافر نے سوال اٹھایا کہ انتخابی نشستوں سے متعلق اس طرح کے الزامات پر واضح جواب دینے کے بجائے مولانا نے دوسرے سیاسی اور ادارہ جاتی معاملات پر سخت گفتگو کیوں شروع کردی؟ واضح رہے کہ 25 کروڑ روپے کی ادائیگی اور نشستوں کے حصول سے متعلق الزام کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی، اس لیے اسے ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
صالح ظافر نے کہا کہ موجودہ سیاسی بندوبست کے دوران یہ پہلا موقع نہیں جب مولانا فضل الرحمان کو اقتدار کی تقسیم پر مایوسی ہوئی ہو۔ ان کے مطابق اس سے پہلے بلوچستان میں حکومت سازی کے مرحلے پر بھی مولانا کی سیاسی توقعات پوری نہیں ہوئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام کی نشستوں کے درمیان نسبتاً کم فرق تھا اور مولانا کو توقع تھی کہ حکومت سازی میں ان کی جماعت کو مرکزی کردار دیا جائے گا۔ صالح ظافر نے دعویٰ کیا کہ مولانا کا خیال تھا کہ بعض دیگر جماعتوں کے مقابلے میں جے یو آئی کی نشستوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بنیاد پر صوبائی حکومت انہیں ملنی چاہیے۔
تاہم ایسا نہ ہوسکا، جس سے ان کی ناراضی میں اضافہ ہوا۔ صالح ظافر نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ ایک طویل اور سنگین شورش کا سامنا کر رہا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز دہشت گردی اور مسلح عسکریت پسندی کے خلاف سرگرم ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی حساس صورتحال میں کسی ایسے سیاسی رہنما یا جماعت کو صوبائی حکومت کیسے دی جاسکتی تھی جس کے سیکیورٹی اداروں کے کردار اور اقدامات سے متعلق مؤقف پر ان کے نزدیک سنجیدہ تحفظات موجود ہوں؟ صالح ظافر کے مطابق بلوچستان میں جاری شورش اور سیکیورٹی آپریشنز کے تناظر میں حکومت سازی کا فیصلہ محض نشستوں کی تعداد کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی سلامتی اور انتظامی ضروریات بھی ایسے فیصلوں میں اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ صالح ظافر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی بندوبست کے حوالے سے فیصلہ ساز شاید اس صورتحال سے بچنا چاہتے تھے کہ تحریک انصاف کی جگہ ایک ایسے سیاسی ماڈل کو لے آیا جائے جس سے انتظامی اور سیکیورٹی مشکلات بدستور برقرار رہیں۔
انہوں نے اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکنے کے مترادف ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی سے جان چھڑانے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی طرزِ سیاست پر مبنی متبادل انتظام لانا بھی مطلوبہ نتائج کی ضمانت نہیں دے سکتا تھا۔
صالح ظافر نے خیال ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر اسی وجہ سے مولانا فضل الرحمان کو نئے انتظامی نظام میں نمایاں کردار دینے سے گریز کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مستقبل اور اقتدار کی خواہشات پر گفتگو کرتے ہوئے صالح ظافر نے کہا کہ وہ ایک طویل عرصے سے ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں کے خواہش مند رہے ہیں۔
ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان 1988 سے وزیراعظم بننے کی خواہش رکھتے آئے ہیں۔ صالح ظافر نے انہیں سیاسی محرومی کے احساس کا شکار رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عہدوں تک نہ پہنچ پانے کی خواہش نے ان کی سیاست کو مسلسل متاثر کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر مولانا کو وزارتِ عظمیٰ حاصل نہ ہو تو وہ کم از کم صدرِ پاکستان بننے کی خواہش ضرور رکھتے ہیں۔ صالح ظافر نے مولانا فضل الرحمان کی صدارت کی خواہش پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صدر بننے کے لیے انہوں نے جتنی سیاسی قلابازیاں کھائی ہیں، شاید ہی کسی دوسرے سیاستدان نے کھائی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا کو کسی نجومی یا علمِ نجوم کے ماہر سے اپنا ہاتھ دکھانا چاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان کے ہاتھ میں ملک کا صدر بننے کی لکیر موجود بھی ہے یا نہیں۔ صالح ظافر کے مطابق اس خواہش کی تکمیل کے لیے مولانا نے کئی مرتبہ اپنے سیاسی مؤقف اور اتحاد تبدیل کیے اور بعض مواقع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیاسی اختلافات بھی پیدا کیے۔
ان کے بقول اقتدار کے اعلیٰ منصب کی خواہش نے مولانا کے فیصلوں اور سیاسی ترجیحات پر گہرا اثر ڈالا۔ صالح ظافر نے مولانا فضل الرحمان کی عسکری اداروں پر تنقید کے تناظر میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تشکیل اور قیادت کا معاملہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو پی ڈی ایم کا صدر کس نے بنایا تھا؟ اس فیصلے میں کون کون سی شخصیات شریک تھیں، اجلاس کہاں ہوا تھا اور کن حلقوں نے اس فیصلے میں کردار ادا کیا تھا؟
صالح ظافر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو ان سوالات کے جواب دینے چاہییں کیونکہ ان کے نزدیک یہ واقعات مولانا کی موجودہ سیاسی گفتگو کو سمجھنے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ گفتگو کے دوران صالح ظافر نے ایک مزید حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کی قیادت اور دیگر سیاسی معاملات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے مبینہ طور پر صدرِ پاکستان بننے کی خواہش کا شدت سے اظہار کیا تھا۔
صالح ظافر کے مطابق مولانا نے اس خواہش کے اظہار میں یہاں تک کہا تھا کہ وہ دوسری چیزوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انہیں ایک مرتبہ ملک کا صدر ضرور بنایا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا کو اس حوالے سے کسی نوعیت کی یقین دہانی یا وعدہ بھی دیا گیا تھا، تاہم وہ اس کی حقیقت یا تفصیلات کے بارے میں قطعی تصدیق پیش نہیں کر رہے تھے۔
یہ دعویٰ بھی صالح ظافر کی بیان کردہ سیاسی معلومات پر مبنی ہے، جس کی متعلقہ فریقوں سے تصدیق ضروری ہے۔