وزارتِ اطلاعات و نشریات نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاک فوج کے افسر کی ہارٹ اٹیک سے انتقال کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے اصل حقائق جاری کر دیے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک سیل نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کا سخت نوٹس لیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان جاری کرکٹ میچ کے دوران پاک فوج کا ایک افسر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا ہے۔
سرکاری تحریری بیان میں ان تمام خبروں کو گمراہ کن اور حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے معاملے کی اصل صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے۔
حادثے کی اصل حقیقت اور اسپتال کا آن ریکارڈ ڈیٹا
وزارتِ اطلاعات کے مطابق متاثرہ فرد پاک فوج کا افسر نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا ملازم تھا۔ میچ کے دوران وہ اسٹیڈیم میں موجود ہی نہیں تھا۔
مذکورہ ملازم کو گھر یا نجی جگہ پر کرنٹ لگا تھا، جس کے فوراً بعد اہل خانہ نے ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا اور انہیں علاج کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال کے سرکاری ریکارڈ اور طبی رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ کرنٹ لگنا (الیکٹریکیوشن) قرار دی گئی ہے، جبکہ ضابطے کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری رکھی جائیں گی۔
خبر کو میچ سے جوڑنے کی کوشش
موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر بغیر کسی تصدیق کے سنسنی خیز خبریں پھیلانے کا رجحان تیزی سے بڑھ چکا ہے۔
خاص طور پر جب کوئی بڑا بین الاقوامی کھیل یا اہم تقریب جاری ہو، تو غیر تصدیق شدہ افواہیں تیزی سے وائرل ہو جاتی ہیں۔
اس کیس میں بھی ایک المناک حادثے اور پی سی بی ملازم کی معطلی یا ملازمت کو بلاجواز گراؤنڈ میں جاری میچ اور پاک فوج سے جوڑ کر عوام میں سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی، جس پر انتظامیہ کا بروقت ردِعمل سامنے آیا۔
وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ کسی طبی ایمرجنسی کو جاری کرکٹ میچ سے جوڑنا انتہائی گمراہ کن ہے۔
صرف پی سی بی میں ملازم ہونا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ واقعہ اسٹیڈیم یا میچ کے دوران پیش آیا۔
سرکاری حکام نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ خبر کو آگے پھیلانے سے قبل متعلقہ ذرائع سے حقائق کی تصدیق لازمی کیا کریں تاکہ افواہ سازی کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
سنسنی خیز اور جھوٹی خبروں کا تدارک
خبر رساں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مصدقہ معلومات کا ہونا کسی بھی معاشرے کی معاشی و انتظامی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔
جب ادارے کسی حادثے یا ہلاکت کے فوراً بعد حقائق پر مبنی فیکٹ چیک جاری کرتے ہیں، تو اس سے نہ صرف بے بنیاد سنسنی کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ عوام کے اندر سرکاری اطلاعات پر اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔ غلط معلومات کی روک تھام اور ذمہ دارانہ اندازِ فکر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔