جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ فضل الرحمٰن کی جانب سے موروثی سیاست کو فروغ دینے اور اقتدار کو گھر تک محدود رکھنے پر پشاور کے شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا ہے۔
شہریوں نے حقائق سامنے لاتے ہوئے واضح کیا کہ پہلے مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے بیٹے کو وزارت کے مزے دلائے اور اب اپنے بھائی کو الیکشن کا ٹکٹ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے نزدیک سیاست کا واحد مقصد خاندانی اجارہ داری کو طول دینا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں پی ڈی ایم حکومت کے دوران بھی ان کی سیاست کا محور اقتدار کے مزے لوٹنا اور جمہوریت کی آڑ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو نوازنا رہا ہے۔
شہریوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طرح کی خاندانی اور موروثی شکلِ اختیار کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے۔ شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی جمہوریت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ان پرانے اور ناکام چہروں کو ہٹا کر نچلی سطح (گراس روٹ لیول) سے نئے، قابل اور باصلاحیت ٹیلنٹ کو آگے لایا جائے۔
شہریوں کے مطابق آج کل پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی جوڑ توڑ اور آئین کے آرٹیکل 32 اور آرٹیکل 140 پر مکمل عمل درآمد کی جو بحث جاری ہےاس کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ اقتدار کو چند مخصوص گھرانوں کی غلام گردشوں سے نکال کر عام عوام کے ہاتھ میں دیا جا سکے تاکہ ملک میں حقیقی اور اصولی جمہوریت پنپ سکے۔
