پاکستانی شہری سوشل میڈیا بالخصوص ’ ایکس ‘ پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف کیوں بول رہے ہیں ؟ مولانا کے سوشل میڈیا ارکان کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
Home - آزاد سیاست - پاکستانی شہری سوشل میڈیا بالخصوص ’ ایکس ‘ پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف کیوں بول رہے ہیں ؟ مولانا کے سوشل میڈیا ارکان کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر فضل الرحمن کے ذرائع آمدن اور ان کے شاہانہ طرز زندگی کے اخراجات سے متعلق سوالات نے فضل الرحمن اور ان کی جمعیت علمائے اسلام کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ جس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے تمام کارکنوں اور ذمہ داران کو سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
جے یو آئی فاٹا کے کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا سیل اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات خالد جان داوڑ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں قبائلی اضلاع کے تمام ڈیجیٹل میڈیا ورکرز، ضلعی و تحصیل مجالس عاملہ کے اراکین، مجالس عمومی اور مجالس شوریٰ کے ممبران سمیت تمام سطح کے ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹرز سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں اپنا کردار ادا کریں۔
خالد جان داوڑ نے اپنے پیغام میں کہا کہ گزشتہ چند روز سے میڈیا اور سوشل میڈیا، بالخصوص ایکس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے خلاف نامناسب اور غیر شائستہ زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
انہوں نے جماعتی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر بھرپور اور مؤثر انداز میں جماعت کے مؤقف کی ترجمانی کریں، مولانا فضل الرحمن کے سیاسی و جمہوری کردار اور خدمات کو اجاگر کریں اور جماعت کی جانب سے جاری کردہ ہیش ٹیگز کے ساتھ اپنا پیغام عوام تک پہنچائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ساتھی فوری طور پر ایکس پر متحرک ہوں، جاری ٹرینڈز میں بھرپور حصہ لیں اور منظم، مہذب اور مدلل انداز میں جماعت کے بیانیے کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کی قوت اس کا مؤثر پیغام اور منظم جدوجہد ہے۔
خالد جان داوڑ نے امید ظاہر کی کہ تمام ذمہ داران اور کارکنان ان ہدایات کو اہمیت دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کریں گے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی روز سے مولانا فضل الرحمن کے ذرائع آمدن اور ان کے شاہانہ طرز زندگی کے اخراجات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان سوالات کے حوالے سے بحث جاری ہے، جبکہ اس معاملے پر مولانا فضل الرحمن کی جانب سے جواب دیے جانے کے بجائے ان کے ریاستی اداروں کے خلاف بیانات پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔