’قومی اسمبلی میں نیا بل پیش‘ حکومت کا ’پرائیویٹائزیشن اینڈ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کمیشن‘ قائم کرنے کا فیصلہ

’قومی اسمبلی میں نیا بل پیش‘ حکومت کا ’پرائیویٹائزیشن اینڈ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کمیشن‘ قائم کرنے کا فیصلہ

حکومت نے قومی اسمبلی میں ایک نیا بل پیش کر دیا ہے جس کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی اور پرائیویٹائزیشن کمیشن کو ضم کر کے ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا جائے گا۔

ملک میں معاشی عمل کو تیز کرنے اور وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں ایک جامع بل پیش کیا گیا ہے۔

اس قانون کا مقصد پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس 2000 اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ایکٹ 2017 میں ترامیم کرتے ہوئے دونوں اداروں کو یکجا کرنا ہے۔

اب تک سرکاری اثاثوں کی نجکاری اور پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے امور الگ الگ اداروں کے ذریعے انجام دیے جا رہے تھے، جس کی وجہ سے انتظامی اور ادارہ جاتی سطح پر افعال کا دگھا پن پیدا ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا خیبرپختونخوا میں آئینی اقدام سے قبل پی ٹی آئی کو مذاکرات کا ایک اور موقع دینے کا فیصلہ

اس نئے اقدام سے دونوں شعبوں کے معاملات ایک ہی چھت کے نیچے زیادہ مؤثر انداز میں چلائے جا سکیں گے۔

قیادت اراکین کی تشکیل اور 4 اہم پبلک فنڈز کا انتظام

مجوزہ طاقتور کمیشن کی سربراہی موجودہ چیئرمین محمد علی کریں گے، جبکہ اس کے بورڈ میں نجی شعبے کے ماہرین کی اکثریت ہوگی جن میں کم از کم 2 خواتین ڈائریکٹرز بھی شامل ہوں گی۔

یہ ادارہ 4 اہم فنڈز، پرائیویٹائزیشن فنڈ، پبلک کنٹریبیوٹری فنڈ، ویابیلیٹی گیپ فنڈ اور پی پی پی پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فنڈز کا اجتماعی طور پر انتظام سنبھالے گا۔

یہ فنڈز وفاقی بجٹ کی تخصیص، بین الاقوامی قرض دہندگان کے عطیات، سرمایہ کاری کی آمدنی اور دیگر ذرائع سے تشکیل دیے جائیں گے اور تمام فنڈز نان لیپسیبل ہوں گے۔

قانونی تحفظ، استثنیٰ اور شفافیت کے تقاضے

نئے قانون کے تحت کمیشن کے موجودہ اور تمام سابقہ چیئرمینوں، سیکریٹریوں، بورڈ ممبران، عہدیداروں اور کنسلٹنٹس کو نیک نیتی سے کیے گئے کسی بھی فعل یا اقدام پر مکمل قانونی اور تفتیشی استثنیٰ فراہم کیا گیا ہے اور ایسے تمام مقدمات کا دفاع کرنے کے لیے سرکاری فنڈز کے استعمال کی منظوری دی گئی ہے۔

دوسری جانب تمام پی پی پی معاہدے عوامی دستاویزات کی حیثیت رکھیں گے جن کی نقل قانون کے مطابق حاصل کی جا سکے گی۔

حکومت یا کمیشن کسی بھی ایسے خطرے کے لیے ذمہ دار نہیں ہوں گے جو متعلقہ معاہدے میں واضح طور پر درج نہ ہو۔

معاشی ڈھانچے میں اصلاحات اور انتظامی خود مختاری کا اثر

ریاستی سطح پر اداروں کے انضمام اور فیصلہ سازی کے عمل کو مرکزی شکل دینے کا یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پالیسی ساز طویل المدتی معاشی منصوبوں میں بیوروکریٹک تاخیر اور قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں:عالمی ملٹری ڈرون مقابلہ، پاکستانی شاہینوں نے 33 ممالک کو پچھاڑ کر دنیا میں ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی اپنی دھاک بٹھا

ماضی میں 2 الگ الگ اداروں کے متوازی چلنے سے پراجیکٹس کی منظوری اور عمل درآمد میں جو رکاوٹیں حائل ہوتی تھیں، اس نئے کمیشن کے قیام سے ان کے خاتمے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ عہدیداروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا مقصد سرکاری افسران کو کھل کر فیصلے کرنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری کے حامل منصوبے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آگے بڑھ سکیں۔

تاہم اس بات کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہوگا کہ اس بے پناہ اختیاری فریم ورک کے ساتھ ساتھ مضبوط عوامی احتساب کا نظام بھی برقرار رہے تاکہ شفافیت پر کوئی آنچ نہ آئے۔

Related Articles