پی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد علی کے لیے قومی خزانہ کا منہ کھلا رہا، کرپشن، بدعنوانی اور 51 غیر ملکی دوروں کا انکشاف

پی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد علی کے لیے قومی خزانہ کا منہ کھلا رہا، کرپشن، بدعنوانی اور 51 غیر ملکی دوروں کا انکشاف

تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر امجد علی کے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ 13 سالوں میں 51 غیر ملکی دوروں کا انکشاف ہوا ہے، جن پر مالی بدعنوانی اور منشیات اسمگلنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر امجد علی کی سیاسی زندگی اور مالیاتی معاملات پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

مستند دستاویزات کے مطابق اقتدار میں آنے سے قبل سوات میں ایک معمولی پنسار کی حیثیت سے زندگی گزارنے والے ڈاکٹر امجد علی سیاسی منصب ملنے کے بعد راتوں رات غیر معمولی اثر و رسوخ کے مالک بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی دور میں غریبوں کے نام پر مختص رقم اور سامان لوٹنے والوں کے گرد گھیرا تنگ،3 کروڑ کی سلائی مشینوں کی کرپشن پر انکوائری شروع

اعداد و شمار کے مطابق سال 2013 کے عام انتخابات سے قبل موصوف نے صرف 3 مرتبہ بیرونِ ملک سفر کیا تھا، تاہم 2013 کے انتخابات اور اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھنے کے بعد سے لے کر سال 2024 تک ان کے بیرونِ ملک دوروں کی تعداد بڑھ کر 49 تک پہنچ گئی، جس سے ان کے کل غیر ملکی دوروں کی تعداد 51 ہو چکی ہے۔

باقاعدہ وقفوں سے غیر ملکی دورے اور پراسرار مقامات

دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ڈاکٹر امجد علی کے بیرونِ ملک سفر کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہا اور وہ اوسطاً ہر ’3‘ ماہ بعد کسی نہ کسی غیر ملکی دورے پر روانہ ہوتے رہے۔

ان کے سفری ریکارڈ میں بحرین، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، چین، امریکا، ترکیہ، آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے ممالک شامل ہیں۔

عوامی حلقوں اور حلقہ احباب میں یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ ایک ایسے شخص کے پاس بیرونِ ملک نہ تو کوئی باقاعدہ تجارتی کاروبار ہے اور نہ ہی وہاں کوئی قریبی رشتہ دار مقیم ہے، تو پھر اس کے بار بار کے غیر ملکی دوروں کے اصل مقاصد کیا تھے اور ان پر اٹھنے والے کروڑوں روپے کے اخراجات کہاں سے پورے ہوتے رہے؟

کرپشن، مبینہ بے نامی جائیدادیں اور منشیات اسمگلنگ کی تحقیقات

انکشافات کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا بلکہ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے بعد بیرونِ ممالک میں بے نامی جائیدادیں خریدنے اور منشیات اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات کی روشنی میں باضابطہ چھان بین کا آغاز کر دیا ہے۔

طاقت کے ایوانوں میں رسائی حاصل کرنے کے بعد عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کی جانب سے وسائل کا اس طرح مبینہ غلط استعمال اور بیرونِ ملک اثاثے بنانا ریاست کے احتسابی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

مزید پڑھیں:کوہستان کرپشن اسکینڈل کا ڈراپ سین، ٹھیکیدار پلی بارگین پر رہا، سرکاری عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار

جب قانون کے رکھوالے یا عوامی نمائندے شفافیت کے اصولوں کو پس پشت ڈال کر ذاتی دولت سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں، تو معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے اور عام آدمی کا جمہوریت پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔

اقتدار اور وسائل کا تضاد، جمہوری ساکھ کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ

کسی بھی جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں کی مالیاتی شفافیت اور جوابدہی جمہوریت کی بقا کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

جب اقتدار میں آنے کے بعد کسی عام پس منظر سے تعلق رکھنے والے فرد کی دولت اور ٹریول ہسٹری میں غیر معمولی اور غیر فطری اچھال آتا ہے، تو یہ اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ نظام کے اندر موجود کمزوریوں کا بھرپور استحصال کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر امجد علی کا یہ کیس اس امر کی واضح مثال ہے کہ کس طرح عوامی مینڈیٹ کو ذاتی مفادات اور غیر قانونی دولت کے انبار لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس نوعیت کے اسکینڈلز نہ صرف سیاسی جماعتوں کے لیے ندامت کا باعث بنتے ہیں بلکہ ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سخت ترین احتساب کو یقینی بنائیں تاکہ قانون کی بالادستی قائم رہ سکے۔

Related Articles