گرمی سے خراب ہونے والے سولر سیلز کا مسئلہ حل، نئی ٹیکنالوجی تیار

گرمی سے خراب ہونے والے سولر سیلز کا مسئلہ حل، نئی ٹیکنالوجی تیار

چین کے سائنسدانوں نے سولر سیلز کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے، جس سے گرمی اور مسلسل دھوپ کے باعث سولر سیلز کی تہیں خراب ہونے کا مسئلہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

چین کے ننگبو انسٹی ٹیوٹ آف میٹریلز ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ کے محققین نے ایک نئی تکنیک کے ذریعے آرگینک سولر سیلز کی بجلی پیدا کرنے کی کارکردگی 20.4 فیصد تک پہنچا دی ہے۔ تحقیق کے نتائج 21 اکتوبر کو سائنسی جریدے جئول میں شائع ہوئے۔

آرگینک سولر سیلز روایتی سولر پینلز میں استعمال ہونے والے سلیکون کے بجائے کاربن پر مبنی مواد سے سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ سیلز سلیکون پینلز کے مقابلے میں ہلکے اور لچک دار ہوسکتے ہیں، جبکہ بعض اقسام کو شفاف بھی بنایا جاسکتا ہے۔

اسی خصوصیت کی وجہ سے انہیں عمارتوں، گاڑیوں کی چھتوں، اسمارٹ واچز اور ایسی دیگر سطحوں پر استعمال کرنے کے امکانات موجود ہیں جہاں بھاری اور سخت سولر پینل لگانا مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب کا بڑا اپڈیٹ، اب اپنی پسند کی ویڈیوز خود منتخب کریں

تاہم، ان سولر سیلز کے لیے ایک بڑا مسئلہ مسلسل گرمی اور دھوپ کے باعث ان کی مختلف تہوں کے درمیان مضبوطی کم ہونا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تہیں ایک دوسرے سے الگ ہوسکتی ہیں، جس سے سیل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ ناکارہ بھی ہوسکتا ہے۔

چینی محققین نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سولر فلم اور الیکٹروڈ کے درمیان انڈیم کلورائیڈ کی انتہائی باریک تہہ شامل کی۔ محققین کے مطابق اسے حرارت دینے سے ایک کیمیائی عمل شروع ہوتا ہے، جو دونوں سطحوں کے درمیان مضبوط کیمیائی بند قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اس طریقے سے سولر سیل کی مختلف تہوں کے درمیان گرفت مضبوط ہوتی ہے، جس سے گرمی اور روشنی کے اثرات کے باوجود ان کے الگ ہونے کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

لیبارٹری میں تیار کیے گئے چھوٹے سولر سیلز نے 20.4 فیصد پاور کنورژن ایفیشنسی حاصل کی، یعنی سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی کارکردگی اس سطح تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ کا نیا فیچر، اب ٹیگ اور ریپلائی والے اہم پیغامات ڈھونڈنا ہوگا آسان

بعد ازاں محققین نے اسی ٹیکنالوجی کو 15.6 مربع سینٹی میٹر رقبے کے بڑے ماڈیول پر بھی آزمایا، جس نے 18.8 فیصد کارکردگی دکھائی۔ محققین نے اس نتیجے کو ایک ریکارڈ قرار دیا ہے۔

یہ پیش رفت مستقبل میں ہلکے، لچک دار اور زیادہ پائیدار سولر سیلز کی تیاری کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کی طویل مدتی کارکردگی اور بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کے امکانات جانچنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہوگی۔

editor

Related Articles