فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور بلوچستان میں قومی و سرحدی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے حال ہی میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات حقائق کے بالکل منافی اور محض سیاسی بیانیہ ہیں ، دستاویزی شواہد اور سرکاری ریکارڈ اس بات کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ ان بیانات کا اصل مقصد حقائق کو مسخ کر کے اپنے منظورِ نظر ٹھیکیداروں کے لیے ‘سب لیٹ’ کاموں کا حصول ہے۔
تربت-مند روڈ: تاخیر کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد
115 کلومیٹر طویل تربت-مند روڈ—جو ایم-8 موٹروے کو جوڑنے اور پاک-ایران سرحد کی قربت کے باعث تجارتی اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، میں ابتدائی تاخیر کی تمام تر ذمہ داری خود صوبائی حکومت کے فنڈنگ اور ڈیزائننگ سے جڑے مسائل پر عائد ہوتی ہے۔
اس کے باوجود FWO اس سڑک کے 86 کلومیٹر حصے پر تمام تر دشواریوں کے باوجود پوری رفتار سے کام جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی 15 جون 2026 کو سیکرٹری C&W کے اجلاس میں باقاعدہ تعریف کی گئی۔ جبکہ 21 ستمبر 2026 کو صوبائی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور احمد بلیدی نے بھی منصوبے کے معیار کو سراہتے ہوئے اسے کیچ کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل قرار دیا۔
سکیورٹی خدشات اور FWO جوانوں کی عظیم قربانیاں
بلوچستان کے ان انتہائی دشوار گزار اور پرخطر علاقوں میں کام کرتے ہوئے FWO کو شرپسند عناصر فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے بارودی سرنگوں کے دھماکوں، حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کا مسلسل سامنا رہا ہے ، انہی خطرات کے باوجود ادارے کے افسران اور جوانوں نے اپنے فرض سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، جن میں 6 جون 2026 کو اسی تربت-مند پراجیکٹ کے دوران لیفٹیننٹ کرنل ارسلان حلیم کا پراجیکٹ سرویئرز کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کرنا شامل ہے۔
وطن کے ان بہادر جوانوں نے اپنے خون سے ترقی کی بنیادوں کو سینچا ہے، اس لیے محض سیاسی مقاصد کے لیے ان پر بے جا تنقید کرنا شہدا کی عظیم قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔
من پسند ٹھیکیداروں کا سچ اور صوبائی حکومت کا جھوٹ پر مبنی ملبہ
صوبائی حکومت کی جانب سے لگائے گئے دیگر الزامات بھی حقائق کے برعکس ثابت ہوتے ہیں ، رکھنی-بیکر روڈ کے 73 کلومیٹر منصوبے کو 5 جولائی 2024 کو صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی اور لاگت میں غیر معمولی اضافے کے باعث دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ختم کر دیا گیا تھا، جس کے بعد یہ ٹھیکہ وزیرِ اعلیٰ کے پسندیدہ ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیا گیا مگر وہ اسے تاحال مکمل کرنے میں ناکام ہیں۔
اسی طرح وزیرِ اعلیٰ نے جھل جھاؤ-آواران روڈ میں تاخیر کا سارا ملبہ بھی بلاجواز FWO پر ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ منصوبہ کبھی اس ادارے کو تفویض ہی نہیں کیا گیا تھا۔
پاکستان ایکسپریس وے (N-25) پر FWO کی شاندار کارکردگی
اس کے برعکس پاکستان ایکسپریس وے (N-25) جو کراچی، حب، خضدار اور کوئٹہ کو افغان بارڈر چمن سے ملاتی ہے، اس کے 524 کلومیٹر حصے پر FWO کا کام انتہائی شاندار اور قابلِ تحسین رہا ہے۔ ادارے نے خضدار-قلات سیکشن پر سال 2022 سے کام کرنے والے دیگر تمام نجی ٹھیکیداروں کو کام کی رفتار اور معیار میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کا اعتراف وفاقی وزارتِ مواصلات نے بھی کیا ہے۔
دسمبر 2025 سے اب تک اس شاہراہ (N-25) پر 30 سے زائد سنگین سکیورٹی واقعات اور جوانوں کے اغوا کے باوجود ایف ڈبلیو او نے کام نہیں روکا، بلکہ حال ہی میں بیلہ کے مقام پر جوانوں نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کیا اور ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔
صوبائی حکومت کے زیرِ التوا منصوبے اور FWO کا کردار
حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں، بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر شفاف ٹھیکوں کی تقسیم کا ملبہ FWO پر ڈال کر اپنی جواب دہی سے بچنا چاہتی ہے۔
حکومتِ بلوچستان کے اپنے زیرِ انتظام بے شمار میگا پراجیکٹس جن میں آواران- نال روڈ، ہوشاب-آواران روڈ، ژوب-کچلاک روڈ، بسیمہ-خضدار روڈ، نوکنڈی-ماشکیل روڈ، ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس اور مانگی ڈیم شامل ہیں، ناقص حکمتِ عملی اور بدعنوانی کے باعث بدترین التوا کا شکار ہیں۔
حقائق واضح کرتے ہیں کہ جہاں ایک طرف ایف ڈبلیو او اپنی جانوں کے نذرانے دے کر بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہا ہے، وہاں دوسری طرف من پسند افراد کو نوازنے کے لیے ادارے کو متنازع بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔