پاکستان کا 2.25 ارب ڈالر کی لاگت سے ’ گیگا بیٹری فیکٹری‘ قائم کرنے کا منصوبہ تیار

پاکستان کا 2.25 ارب ڈالر کی لاگت سے ’ گیگا بیٹری فیکٹری‘ قائم کرنے کا منصوبہ تیار

پاکستان نے توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی جانب اہم پیشرفت کرتے ہوئے راولپنڈی میں 2.25 ارب ڈالر کی لاگت سے لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ پلانٹ (گیگا فیکٹری) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی پیداوار حکومت کی جانب سے نئی پالیسی کی منظوری کے بعد 6 سے 8 ماہ میں شروع ہو جائے گی۔

پاک فوج کی ذیلی صنعتی اکائی ’مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ‘ (ایم ایچ آئی ایل) نے رواں سال جولائی میں چین کی ایک سرفہرست مینوفیکچرنگ کمپنی اور مقامی نجی سرمایہ کار کے ساتھ اس سٹریٹجک منصوبے کا معاہدہ طے کیا۔

انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور کے مطابق، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے احاطے میں منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈیز مکمل ہو چکی ہیں، عمارت تیار اور مشینری نصب کی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بیٹری ختم ہونے پر بھی کھلے گا دروازہ، ایمیزون کا انوکھا اسمارٹ لاک متعارف

یہ فیکٹری ابتدا میں 200 سے 300 میگاواٹ بیٹری سسٹمز تیار کرے گی جسے بعد میں بڑھا کر سالانہ ایک ہزار میگاواٹ سے زیادہ کی پیداواری صلاحیت تک پہنچایا جائے گا۔

ایم ایچ آئی ایل اس وقت دفاعی سامان جیسے ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں، ڈرونز اور بی ای ایس ایس سسٹمز کی تیاری میں معروف ہے۔

الیکٹرک وہیکل پالیسی اور متوقع طلب

یہ اہم پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ’آٹو موٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 31-2026 ‘کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس مراعات کا فیصلہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی توثیق کا منتظر ہے۔

ای ڈی بی کے تخمینے کے مطابق اگر ملک کی اقتصادی شرحِ نمو (جی ڈی پی) 5 فیصد یا اس سے زیادہ رہتی ہے تو جون 2030 تک پاکستان میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) کی کل طلب ایک لاکھ میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 3 فیصد سے کم شرحِ نمو کی صورت میں بھی یہ طلب 80 ہزار میگاواٹ رہے گی۔

یہ طلب گھریلو اور تجارتی صارفین، صنعتی ضروریات اور موٹر سائیکلوں، رکشوں، کاروں، بسوں اور ٹرکوں پر مشتمل الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہونے والے شعبے سے پیدا ہوگی۔

قومی ماسٹر پلان اور برآمدی ہدف

وزارتِ انڈسٹریز کو پیش کی گئی لیتھیم بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی کے تحت ملک بھر میں چار بڑی گیگا فیکٹریز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جو پنجاب کے لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی ڈویژنز اور جنوبی ساحلی شہر کراچی میں لگائی جائیں گی۔

ای ڈی بی حکام کا کہنا ہے کہ صرف قومی پاور گرڈ کے استحکام کے لیے 3000 سے5000 میگاواٹ کی اسٹوریج کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے 1 ارب سے 1.25 ارب ڈالر کی لاگت والی 4 سے 5 گیگا فیکٹریز درکار ہوں گی۔ پالیسی کے تحت مقامی مینوفیکچررز کو پیداوار کا ایک مخصوص حصہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق برآمد کرنا لازمی ہوگا، جبکہ آئندہ برس تک موٹرز، کنٹرولرز اور چارجرز جیسے دیگر تمام پرزہ جات کی 100 فیصد مقامی پیداوار کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان سالانہ اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ ایندھن اور توانائی کے آلات کی کی برآمدات اور درآمدات پر خرچ کرتا رہا ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک اور روایتی پیٹرول و ڈیزل کی گاڑیوں کے ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل ہونے کی وجہ سے بیٹری اسٹوریج جدید معیشت کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

اس وقت پاکستان میں سالانہ محض 3000 سے 4000 میگاواٹ کی بیٹریاں اسمبل کی جاتی ہیں جو ملکی ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔

مزید پڑھیں:’گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد‘ میں ’الیکٹرک اسکوٹی‘ کی بیٹری پھٹ گئی، یونیورسٹی بس اور 7 اسکوٹیاں جل کر خاکستر

درآمدات پر انحصار ختم کر کے مقامی پیداوار شروع کرنے سے نا صرف ملک کے قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی کے اس دور میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی مقامی سطح پر تیاری پاکستان کی معاشی خودانحصاری کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چین جیسے تکنیکی اور صنعتی طاقت کے حامل ملک کے ساتھ دفاعی اور سول انڈسٹری کی یہ شراکت داری پاکستان کو گرین انرجی کی عالمی سپلائی چین میں ایک اہم مقام دلا سکتی ہے۔

اگرچہ پالیسی پر عملدرآمد اور آئی ایم ایف کے ٹیکس تحفظات جیسے انتظامی چیلنجز اب بھی درپیش ہیں، تاہم بنیادی ڈھانچے اور مشینری کی پیشگی تنصیب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے کے بحران کو ختم کرنے اور مستقبل کی 1 لاکھ میگاواٹ سے زیادہ کی سستی انرجی مارکیٹ پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔

Related Articles