فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) جو پاک فوج کی ایک ممتاز ملٹری انجینئرنگ اور تعمیراتی کمپنی ہے، پاکستان کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس عظیم ادارے کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے شاہراہِ قراقرم سے لے کر کرتارپور راہداری جیسے شاہکار تعمیر کیے ہیں۔
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ملک کی تعمیر و ترقی میں شاندار کردار کی رپورٹ کے مطابق ایف ڈبلیو او کا قیام 31 اکتوبر 1966 کو عمل میں لایا گیا تھا اور اس کا ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں واقع ہے۔
اس تنظیم کو بنانے کا بنیادی اور فوری مقصد پاک، چین دوستی کی علامت ’شاہراہِ قراقرم‘ جسے دُنیا کا 8 واں عجوبہ بھی قرار دیا گیا، جو عظیم اور مشکل ترین سڑک کی تعمیر تھا اور یہ کمپنی شفافیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔
اس تنظیم میں پاک فوج کے حاضر سروس افسران اور انجینیئرز کے ساتھ ساتھ سویلین سائنسدان اور ماہرینِ تعمیرات بھی شامل ہیں۔ ایف ڈبلیو او کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے اور یہ عام طور پر ملک کے ان دشوار گزار، سنگلاخ اور پسماندہ علاقوں میں کام کرتی ہے جہاں نجی کمپنیاں کام کرنے سے کتراتی ہیں۔
ادارے کی خدمات میں شاہراہیں اور موٹر ویز (ملک بھر میں میگا ہائی ویز، موٹر ویز اور اسٹرٹیجک سڑکوں کی تعمیر)، ڈیمز اور توانائی کے منصوبے (پانی کے ذخائر، آبپاشی کے لیے نہریں اور پن بجلی و تھرمل پاور پلانٹس بنانا)، سرنگیں اور کان کنی (پہاڑوں کو کاٹ کر سرنگیں بنانا اور یورینیم، تانبا، سونا وغیرہ جیسی معدنیات کی تلاش)، حسّاس و عسکری انفراسٹرکچر (ایئر فیلڈز، ریلوے لائنز، پل اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لیے حساس جوہری پلانٹس کی تعمیر) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت آپٹیکل فائبر کیبلز بچھانا اور سیف سٹی پروجیکٹس کی تکمیل بھی شامل ہے۔
تکمیل شدہ منصوبے اور 1300 سے زیادہ شہدا کی لازوال قربانیاں
ایف ڈبلیو او اپنے 60 سالہ سے زیادہ کے سفر میں سینکڑوں چھوٹے بڑے قومی اور بین الاقوامی میگا پروجیکٹس کامیابی سے فائنل کر چکی ہے۔
اگرچہ مکمل شدہ منصوبوں کی قطعی مجموعی تعداد ان کے روزمرہ کے چھوٹے کاموں کی وجہ سے ایک فکس ہندسے میں بتانا مشکل ہے، لیکن یہ تنظیم ہزاروں کلومیٹر طویل سڑکیں اور درجنوں بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کر چکی ہے۔
805 کلومیٹر طویل ’شاہراہِ قراقرم‘، جسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے، اسی کمپنی نے تعمیر کیا ہے اور اس شاہکار کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔
موٹر ویز کی تعمیر میں لاہو، سیالکوٹ موٹر وے، ایم۔2 (لاہور تا اسلام آباد) کی ری ہیبلیٹیشن اور سوات ایکسپریس وے بھی اسی کمپنی نے تعمیر کی جنہیں پاکستانی شاہرات میں اعلیٰ معیار کی تعمیر کہا جا رہا ہے۔
سکھ زائرین کے لیے کرتارپور راہداری کا عظیم الشان پروجیکٹ ریکارڈ 10 ماہ کی مدت میں فائنل کیا گیا جو اس کمپنی کی شفافیت اور کام کے اعلیٰ معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مزید برآں چاغی کے پہاڑوں میں سرنگوں کی تعمیر (جہاں 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے گئے) اور خوشاب نیوکلیئر کمپلیکس کی تعمیر بھی اسی کمپنی کے کارناموں میں شامل ہے۔
گومل زیم ڈیم جنوبی وزیرستان میں سیلاب سے بچاؤ، بجلی کی پیداوار اور آبپاشی کا بڑا منصوبہ ہے، جبکہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت گجر اور محمود آباد نالوں کی بحالی اور صفائی کا ہنگامی کام بھی اسی کا مرہونِ منت ہے۔
بین الاقوامی پروجیکٹس میں بھی ایف ڈبلیو او کا کلیدی کردار رہا ہے، جس کے تحت پاکستان سے باہر کویت، افغانستان، لائبیریا (اقوامِ متحدہ کے تحت) اور متحدہ عرب امارات میں بھی تعمیراتی منصوبے فائنل کیے گئے ہیں۔
اس عظیم قومی خدمت کے دوران ایف ڈبلیو او کے 1300 سے زیادہ افسران اور جوانوں نے سخت موسموں اور دشوار گزار علاقوں میں ڈیوٹی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ (شہادت) پیش کیا ہے۔
تربت مند روڈ پر حقائق اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود سفرِ ترقی
دستاویزی شواہد اور سرکاری ریکارڈ اس بات کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ اس کمپنی پر تنقید کا اصل مقصد حقائق کو مسخ کر کے اپنے منظورِ نظر ٹھیکیداروں کو نوازنا ہے۔
115 کلومیٹر طویل تربت مند روڈ، جو ایم۔8 موٹروے کو جوڑنے اور پاک، ایران سرحد کی قربت کے باعث تجارتی اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، میں ابتدائی تاخیر کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکومت کی فنڈنگ اور ڈیزائننگ سے جڑے مسائل پر عائد ہوتی ہے۔
اس کے باوجود ایف ڈبلیو او اس سڑک کے 86 کلومیٹر حصے پر تمام تر دشواریوں کے باوجود پوری رفتار سے کام جاری رکھے ہوئے ہے، جس کی 15 جون 2026 کو سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو کے اجلاس میں باقاعدہ تعریف کی گئی۔
جبکہ 21 ستمبر 2026 کو صوبائی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور احمد بلیدی نے بھی منصوبے کے معیار کو سراہتے ہوئے اسے کیچ کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل قرار دیا۔
آج بھی بلوچستان کے ان انتہائی دشوار گزار اور پرخطر علاقوں میں کام کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او کو شرپسند عناصر فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے بارودی سرنگوں کے دھماکوں، حملوں اور جلاؤ گھیراؤ کا مسلسل سامنا رہا ہے۔
انہی خطرات کے باوجود ادارے کے افسران اور جوانوں نے اپنے فرض سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، جن میں 6 جون 2026 کو اسی تربت مند پراجیکٹ کے دوران لیفٹیننٹ کرنل ارسلان حلیم کا پراجیکٹ سرویئرز کے ہمراہ جامِ شہادت نوش کرنا بھی شامل ہے۔
پاکستان ایکسپریس وے این 25 جو کراچی، حب، خضدار اور کوئٹہ کو افغان بارڈر چمن سے ملاتی ہے، اس کے 524 کلومیٹر حصے پر ایف ڈبلیو او کا کام انتہائی شاندار اور قابلِ تحسین رہا ہے۔
ادارے نے خضدار، قلات سیکشن پر سال 2022 سے کام کرنے والے دیگر تمام نجی ٹھیکیداروں کو کام کی رفتار اور معیار میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کا اعتراف وفاقی وزارتِ مواصلات نے بھی کیا ہے۔
دسمبر 2025 سے اب تک اس شاہراہ پر 30 سے زیادہ سنگین سیکیورٹی واقعات اور جوانوں کے اغوا کے باوجود ایف ڈبلیو او نے کام نہیں روکا۔
قومی یکجہتی اور معاشی استحکام کی جدوجہد میں ایف ڈبلیو او کا کردار صرف سڑکوں کی تعمیر تک محدود نہیں، بلکہ یہ ادارہ ریاست کی اس صلاحیت کی علامت ہے جو کٹھن حالات میں بھی ترقی کا پہیہ رکنے نہیں دیتی۔
بلوچستان میں جاری آپریشنز، شرپسند عناصر کے حملوں اور جیو پولیٹیکل چیلنجز کے سامنے ایف ڈبلیو او کا محاذِ عمل پر ڈٹے رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ادارہ نجی مفادات سے بالاتر ہو کر محض قومی سلامتی اور مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔
حقائق بالکل واضح کرتے ہیں کہ جہاں ایک طرف ایف ڈبلیو او اپنی جانوں کے نذرانے دے کر بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہا ہے، وہاں دوسری طرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور من پسند افراد کو نوازنے کے لیے ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اداروں پر بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے ان کی لازوال قربانیوں کا اعتراف اور ان کے پیشہ ورانہ عزم کو تقویت دینا ہی ملک کو خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتا ہے۔