پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے تیار کیا گیا کنٹینر اب خود سوالیہ نشان بن گیا ہے، ایک وقت تھا جب اس کنٹینر کو احتجاجی سیاست اور عمران خان کی رہائی کی تحریک کے لیے اہم قرار دیا جا رہا تھا، لیکن پھر وہی کنٹینر مردان میں ویران حالت میں کھڑا دکھائی دیا، جس کے ٹائر بھی غائب تھے۔
رہائی کا کنٹینر کہاں گیا؟
ادھر جب ایک صحافی نے شیر افضل مروت سے کنٹینر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ازراہِ مذاق جواب دیا کہ اسے کباڑی کو بیچ دیا گیا ہے،عمران خان کی رہائی کے لیے تیار کیے گئے اس کنٹینر کو پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا تھا تاہم سیاسی حالات میں تبدیلی اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق صورتحال کے بعد یہ کنٹینر مردان میں غیر آباد اور خستہ حالت میں نظر آنے کی اطلاعات سامنے آئیں،کنٹینر کے ٹائر غائب ہونے کے منظر نے بھی اس معاملے کو دلچسپ بنا دیا اور اس کی موجودہ حالت اور استعمال سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔
شیر افضل مروت کا دلچسپ جواب
صحافی نے جب شیر افضل مروت سے پوچھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے تیار کیا گیا کنٹینر کہاں ہے تو ان کا جواب تھا کہ اسے کباڑی کو فروخت کر دیا گیا ہے یہ جواب انہوں نے ازراہِ مذاق دیا، تاہم اس جملے نے سیاسی حلقوں میں کنٹینر کے انجام سے متعلق بحث کو مزید دلچسپ بنا دیا۔
گھڑی سے کنٹینر تک سیاسی طنز
پی ٹی آئی کی سیاسی مخالفانہ بحث میں عمران خان کی گھڑی کا معاملہ پہلے ہی بارہا زیرِ بحث آتا رہا ہے اسی تناظر میں کنٹینر کو کباڑی کے ہاتھ فروخت کرنے کے مذاق نے سیاسی طنز کا ایک نیا پہلو پیدا کر دیا ہے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ لیڈر اگر گھڑی بیچ سکتا ہے تو اس کے کارکن کنٹینر کیوں کباڑی کو فروخت نہیں کرسکتے ۔
جب رہائی کے لیے تیار کیا گیا کنٹینر ہی ویران حالت میں کھڑا ہو تو اس منصوبے اور اس پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں سوالات کیوں نہ اٹھیں؟ شیر افضل مروت کے مذاق کو کنٹینر کی حقیقی فروخت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا اس بات کی تصدیق کے لیے کہ کنٹینر واقعی فروخت کیا گیا یا نہیں، اس کی ملکیت، اخراجات اور موجودہ حیثیت سے متعلق معلومات درکار ہوں گی۔
سیاسیبے روزگاری یا احتجاجی حکمت عملی؟
خیبرپختونخوا میں حکومتی صورتحال بدلنے کے بعد پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیوں اور سیاسی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی رہائی کے لیے تیار کیے گئے کنٹینر کی موجودہ حالت ایک طنزیہ سیاسی موضوع بن گئی ہے۔
اگر کنٹینر اب استعمال میں نہیں تو یہ جاننا اہم ہوگا کہ اسے کہاں رکھا گیا، اس کی دیکھ بھال کس کی ذمہ داری تھی اور مستقبل میں اسے استعمال کرنے کا کوئی منصوبہ ہے یا نہیں۔
فی الحال کنٹینر کو کباڑی کے ہاتھ فروخت کرنے سے متعلق شیر افضل مروت کا بیان مذاق پر مبنی ہے، نہ کہ فروخت کی تصدیق اس کے باوجود کنٹینر کی ویران حالت اور اس پر ہونے والے اخراجات سے متعلق سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔
