فضل الرحمان کے قانون اور اصولوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب، جے یو آئی کے اپنے مرکزی دفتر پر تجاوزات کی نشاندہی،کارروائی سے بچانے کیلئے طالب علموں کو ڈھال بنا لیا
Home - آزاد سیاست - فضل الرحمان کے قانون اور اصولوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب، جے یو آئی کے اپنے مرکزی دفتر پر تجاوزات کی نشاندہی،کارروائی سے بچانے کیلئے طالب علموں کو ڈھال بنا لیا
خیبرپختونخوا میں ملک کی بڑی سیاسی جماعت جمعیت علما اسلام کا پشاور میں قائم مرکزی دفتر جسے مفتی محمود کے نام سے رکھا گیا ہے وہ بھی تجاوزات کی زد میں آگیا ہے جس پر متعلقہ اداروں کی طرف سے کارروائی کرتے ہوے انتظامیہ کو سرکاری اراضی جس پر قبضہ کیا گیا ہے خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے جس کے بعد انتظامیہ کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہے تاہم قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے فضل الرحمان نے اپنے طالب علموں کو مرکز کے اطراف میں ڈھال بنا کر کھڑا کر دیا ہے ۔
اصولوں، نظریات اور قانون کی بالادستی کا جھوٹا دعوی کرنے والی جے یو آئی کے اپنے مرکزی دفتر سے متعلق یہ معاملہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر سروے رپورٹ میں سرکاری زمین پر تعمیرات کی نشاندہی ہوئی ہے تو سیاسی جماعت کے دفتر کو بھی قانون سے بالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سرکاری زمین پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کا اصول تمام شہریوں، کاروباری مراکز اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ کارروائی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مفتی محمود مرکز میں جے یو آئی کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی صورت مرکز کا ایک انچ حصہ بھی گرانے نہیں دیں گے۔ اس صورت حال نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کو سیاسی رنگ دینے کے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
جے یو آئی کے ترجمان عبدالجلیل جان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور انہیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مفتی محمود مرکز تجاوزات کی زد میں آگیا ہے۔ ان کے مطابق مرکز کے باہر سڑک پر حفاظتی رکاوٹیں انتظامیہ نے خود رکھی تھیں۔
تاہم نوٹس موصول ہونے یا نہ ہونے کے معاملے سے قطع نظر، سروے رپورٹ میں سرکاری زمین پر تعمیرات کی نشاندہی کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ حصے کی قانونی حیثیت اور زمین کے ریکارڈ کو سامنے رکھ کر کارروائی ہونے دی جائے گی یا کارکنوں کا اجتماع انتظامیہ کے فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بنے گا؟
عوام کو قانون اور اصولوں کی پاسداری کا درس دینے والی سیاسی جماعت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مرکزی دفتر سے متعلق سامنے آنے والے سوالات کا جواب متعلقہ دستاویزات اور زمین کے قانونی ریکارڈ کی بنیاد پر دے۔ اگر تعمیرات واقعی سرکاری زمین پر تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کا معاملہ سیاسی دباؤ یا طاقت کے مظاہرے کے بجائے قانون کے مطابق طے ہونا چاہیے۔
تجاوزات کے خلاف آپریشن میں کسی کو سیاسی وابستگی یا جماعتی حیثیت کی بنیاد پر استثنا نہیں ملنا چاہیے۔ مفتی محمود مرکز کے معاملے میں بھی سروے رپورٹ، زمین کے ریکارڈ اور متعلقہ قانونی تقاضوں کی روشنی میں فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ قانون کی بالادستی کا اصول عملی طور پر بھی برقرار رہے