بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بھارت چھوڑنے کے حکم کے خلاف قانونی جنگ میں عارضی کامیابی مل گئی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کی جانب سے جاری نوٹس کو آئندہ سماعت تک معطل کردیا ہے۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 2 نومبر کو سہ پہر 3 بجے مقرر کی ہے۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے وکیل نے عدالت سے مزید وقت دینے کی درخواست کی، جس پر حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ اگلی سماعت تک اداکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
عمران خان کے وکیل وینکٹیش دھونڈ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آر آر او کے حکم کے تحت اداکار کو اگلے ہی روز بھارت چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ کیس کی سماعت بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مہیش چندرا ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل بینچ نے کی۔
عامر خان کے بھانجے عمران خان امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی موجود ہے۔
معاملہ کیسے شروع ہوا؟
یہ تنازع 10 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا جب ممبئی پولیس نے عمران خان کو اگست کرانتی میدان کے قریب ایک احتجاج کے دوران حراست میں لیا۔ یہ احتجاج ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے لیے جاری خصوصی مہم، جسے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کہا جاتا ہے، کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق، عمران خان کے ساتھ ان کی پارٹنر لیکھا واشنگٹن اور کزن زین میری خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ اس معاملے میں بی جے پی رہنما کرٹ سومیا کی شکایت بھی سامنے آئی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان بھارتی شہری نہیں بلکہ امریکی شہری ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے بعد پولیس نے معاملہ ایف آر آر او کو بھیج دیا۔
عدالت کے حالیہ حکم سے عمران خان کو فی الحال عارضی ریلیف مل گیا ہے، تاہم کیس کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ اب سب کی نظریں 2 نومبر کی سماعت پر ہیں، جہاں اس معاملے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔