مشرقِ وسطیٰ کشیدگی ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری  کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی توانائی کی منڈی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ،  یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر میزائل حملے کے دعوے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 عالمی منڈی کی صورتحال

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، عالمی منڈی میں کاروبار کے آغاز پر ہی خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں ، برینٹ خام تیل (Brent Crude): مستقبل کے سودوں میں 1.48 ڈالر (1.3 فیصد) اضافے کے بعد قیمت 115.36 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس (WTI): ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں بھی 1.22 ڈالر (1.22 فیصد) کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے یہ 101.12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل سفارتی مذاکرات کی خبروں پر مارکیٹ میں قیمتیں دو ڈالر تک نیچے آئی تھیں، تاہم حملے کے بعد یہ عارضی سکون ختم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں خام تیل کی اونچی اڑان رک گئی ، قیمتوں میں اچانک کمی

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے حامی یمنی حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے منگل کے روز سعودی عرب کی ایک اہم اور مرکزی آئل ریفائنری کو ہدف بنایا، جس کی یومیہ پیداواری گنجائش 5 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے۔ اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس حملے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن خبر پھیلتے ہی عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات نے جنم لے لیا ہے۔

امریکی ذخائر کا حجم اور ماہرین کا جائزہ

دوسری جانب امریکی خام تیل کے حوالے سے جاری کردہ تجزیاتی سروے میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں تیل کے ذخائر میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔

 رائٹرز کے سروے کے مطابق امریکی ذخائر میں تقریباً 15 ہزار بیرل کا معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں خطرے کے بادل چھائے رہنے کی وجہ سے اس اضافے کا عالمی مارکیٹ پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑ سکا۔

توانائی کی منڈی سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں آئل انسٹالیشنز پر حملوں کا یہ سلسلہ نہ رکا، تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید بلند سطح کو چھو سکتی ہیں۔

editor

Related Articles