پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے ایران اور ایٹمی عدم پھیلاؤ پر منقعدہ سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی معاملہ دن بہ دن پیچیدہ شکل اختیار کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے اندر اتحاد کی کمی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالات کو مزید خراب کیا ہے، جس کی وجہ سے اب کسی پائیدار اور سفارتی تصفیے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ خطے میں کسی بھی نئے تصادم کے خطرے کو ٹالنے کے لیے تمام متعلقہ ٖفریقین کو غیر ذمہ دارانہ زبان، جارحانہ رویے اور اشتعال انگیز اقدامات سے پرہیز کرنا ہوگا۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے راستے کا انتخاب کرے جو خطے اور دنیا کی سلامتی، پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت دے سکے۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی آزادی اور سیاسی غیر جانبداری
پاکستان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے پیشہ ورانہ اور تکنیکی کردار پر کامل اعتماد کا اظہار کیا۔ عثمان جدون کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدوں پر عمل درآمد کے تکنیکی پہلوؤں اور خدشات کو صرف اسی مجاز ادارے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے تاکید کی کہ آئی اے ای اے کو بغیر کسی سیاسی اثر و رسوخ کے اپنے دیے گئے دائرہ کار میں آزادی سے کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ شفافیت قائم رہ سکے۔
تنازع کا پس منظر اور 2015 کے معاہدے کا خاتمہ
ایران اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ایک تاریخی ایٹمی معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد تہران کی ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کر کے اس پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھانا تھا۔
تاہم 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے دوران امریکا اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ ہو گیا۔ اس فیصلے کے بعد سے معاہدے کی بحالی کی تمام بین الاقوامی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور تہران اور مغرب کے درمیان شکوک و شبہات کی خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہے۔
اسلام آباد یادداشتِ سمجھوتا اور امن کے لیے سفارتی پیش رفت
پاکستان نے تنازعات کے حل کے لیے اپنے سفارتی کردار اور مخلصانہ کوششوں کو اجاگر کیا۔ عثمان جدون نے جون میں اسلام آباد میں طے پانے والے ’مفاہمتی یادداشتِ ‘ (ایم او یو) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بات چیت اور دوطرفہ رابطوں سے تاحال پیش رفت ممکن ہے۔
پاکستان اس وقت قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، چین اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور تصفیے کے لیے مسلسل متحرک ہے۔
سفارتی حکمتِ عملی اور خطے کا مستقبل
سلامتی کونسل کی موجودہ صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل فضا یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف طاقت یا یکطرفہ پابندیاں کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتیں۔
اگر بین الاقوامی ادارے اور عالمی طاقتیں تکنیکی امور کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گی، تو خطہ ایک نئے اور خطرناک تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز اور خطے کے کلیدی ممالک کے ساتھ مل کر کی جانے والی کوششیں ہی وہ واحد راستہ ہیں جو مشرق وسطیٰ کو کسی بڑی تباہی سے بچا سکتی ہیں۔