پنڈی بھٹیاں مسافر بس نالے میں جا گری، 5 افراد جاں بحق اور 40 سے زیادہ شدید زخمی

پنڈی بھٹیاں مسافر بس نالے میں جا گری، 5 افراد جاں بحق اور 40 سے زیادہ شدید زخمی

پنڈی بھٹیاں کے قریب ڈرائیور کو اونگھ آنے کے باعث 65 مسافروں سے بھری بس نالے میں جا گری، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 40 سے زیادہ  شدید زخمی ہو گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی صبح پنڈی بھٹیاں کے علاقے کوٹ نکا روڈ پر ایک انتہائی دردناک اور ہولناک حادثہ پیش آیا۔

لاہور سے چنیوٹ کی جانب گامزن تیز رفتار مسافر بس کا ڈرائیور دورانِ ڈرائیونگ سو گیا، جس سے گاڑی بے قابو ہو کر روڈ سے اتر گئی اور گہری کھائی کے ساتھ ساتھ پانی کے نالے میں جا گری۔

حادثہ اتنا شدید تھا کہ بس میں سوار مسافروں میں افراتفری مچ گئی اور چیخ و پکار کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔

ریسکیو 1122 کا ہنگامی آپریشن اور زخمیوں کی منتقلی

واقعے کی اطلاح ملتے ہی ریسکیو 1122 کے اہلکار بھاری نفری اور امدادی سامان کے ساتھ موقع پر پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں::مری میں فناک  ٹریفک حادثہ ، خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق ، 8 زخمی

ریسکیورز نے تاحال نالے میں سے 5 لاشیں نکال لی ہیں جبکہ 40 سے زیادہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کر دیا گیا ہے۔

 اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مسافروں کا خدشہ اور زیرِ التوا امدادی کارروائیاں

حادثے کے وقت بس میں 65 کے قریب مسافر سوار تھے۔ حادثے میں بچ جانے والے مسافروں کے مطابق نالے کے پانی میں ابھی بھی متعدد افراد کے ڈوبے اور لاپتا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے نالے کے اندر ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ تمام ممکنہ لاپتا مسافروں کی تلاش اور پانی میں ڈوبی گاڑی کو نکالنا ممکن بنایا جا سکے۔

یہ اندوہناک واقعہ ایک بار پھر پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ طویل مسافت کی گاڑیوں میں متبادل ڈرائیور کا نہ ہونا اور مسلسل ڈرائیونگ کے باعث تھکن و نیند غالب آنا جیسے عوامل اکثر معصوم زندگیوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں۔

مزید پڑھیں:وادی نیلم میں افسوسناک حادثہ،اسکول جاتے بچوں کی گاڑی دریا میں جا گری، 3 سگے بھائیوں سمیت 4 بچے زندگی ہار گئے

حکومت اور ٹریفک حکام کو چاہیے کہ وہ تیز رفتار گاڑیوں میں لازمی متبادل ڈرائیورز اور تیز رفتاری کو کنٹرول کرنے والے خودکار سسٹمز کی پابندی کو یقینی بنائیں تاکہ اس نوعیت کے المناک حادثات کا سدِباب ہو سکے۔

Related Articles