پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر فعال سموں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کی بندش کا عمل شروع کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے موبائل نمبروں کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا ہے جو اب اپنے اصل صارفین کے زیر استعمال نہیں رہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی صارفین میں آگاہی مہم کے بعد شروع کی گئی ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس ایسے موبائل نمبروں سے منسلک رکھیں جو فعال ہوں اور جن پر ان کا اپنا کنٹرول ہو۔
غیر فعال سم سے واٹس ایپ استعمال کرنا خطرناک کیوں ہے؟
پی ٹی اے کے مطابق اگر کسی صارف کی سم بند یا غیر فعال ہو جائے تو اس نمبر کو مستقبل میں ٹیلی کام کمپنی کسی دوسرے شخص کو جاری کرسکتی ہے۔ ایسی صورت میں پرانے نمبر سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹ سکیورٹی خطرات کا شکار ہوسکتا ہے۔
اگر اکاؤنٹ پرانے نمبر کے ساتھ منسلک رہے تو اصل صارف کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کھونے یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے غیر مجاز رسائی کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
واٹس ایپ صارفین کیا کریں؟
پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سم کی موجودہ حیثیت چیک کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ اسی نمبر پر رجسٹرڈ ہو جو اس وقت ان کے زیر استعمال ہے۔
اگر کسی صارف نے اپنا موبائل نمبر تبدیل کرلیا ہے یا پہلے سے رجسٹرڈ سم بند ہوچکی ہے تو اسے واٹس ایپ کی چینج نمبرسہولت استعمال کرکے اپنے اکاؤنٹ کو موجودہ نمبر پر منتقل کرنا چاہیے۔
صارفین کے لیے اہم ہدایت
پی ٹی اے پہلے بھی غیر فعال یا منسوخ شدہ سموں سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے سکیورٹی خطرات سے خبردار کرچکا ہے۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بروقت اپنا نمبر اپ ڈیٹ کریں تاکہ ان کے اکاؤنٹس کے غلط استعمال کے امکانات کم ہوسکیں۔