اسعد محمود نے وزارت کی بجائے جے یو آئی آفس کو بھرتی سینٹر بنایا، بھرتیوں کی مد میں 2 ارب 73 کروڑ کی بے ضابطگیوں سے فضل الرحمان اینڈ سنز کا کچا چھٹا کھل گیا
Home - آزاد انتخاب - اسعد محمود نے وزارت کی بجائے جے یو آئی آفس کو بھرتی سینٹر بنایا، بھرتیوں کی مد میں 2 ارب 73 کروڑ کی بے ضابطگیوں سے فضل الرحمان اینڈ سنز کا کچا چھٹا کھل گیا
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیرِ مواصلات مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت میں پاکستان پوسٹ کے اندر بھرتیوں سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے سنگین انکشافات سامنے آگئے۔ سرکاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق بھرتیوں سے متعلق چار معاملات میں مجموعی طور پر 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ تقرریوں، مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور ملازمتوں کے عوض رقم لینے کے الزامات نے پورے عمل کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کے لیے کیس قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے کی ہدایت کی۔
دستیاب آڈٹ تفصیلات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ کو گریڈ ایک سے 15 تک کی 3 ہزار 938 خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم مجموعی طور پر 4 ہزار 252 افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اس طرح منظور شدہ تعداد سے 314 زیادہ تقرریاں ہوئیں۔ آڈٹ حکام نے بھرتیوں کے طریقۂ کار اور مقررہ اجازت سے تجاوز پر اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد یہ معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے آیا۔
بھرتیوں کے معاملے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں مبینہ بے ضابطگیوں کے ساتھ ملازمتوں کے عوض 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اجلاس میں بعض بھرتیوں کے لیے درخواستیں نہ دینے، تعلیمی اسناد اور دستاویزات میں مبینہ جعل سازی اور قواعد کے مطابق کارروائی نہ ہونے کے معاملات اٹھائے گئے۔ ان الزامات نے میرٹ پر بھرتیوں اور سرکاری ملازمتوں میں شفافیت کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بھرتیوں کے لیے ذمہ دار وزارت اور متعلقہ محکمے کے انتظامی کردار کا تعین کیسے کیا جائے گا۔ سیاسی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سابق وزیرِ مواصلات کے دور میں وزارت کے بجائے جے یو آئی کے دفتر کو بھرتیوں کے لیے اثرورسوخ کا مرکز بنایا گیا تھا؟ تاہم جے یو آئی دفتر کو باقاعدہ بھرتی مرکز قرار دینے یا کسی رہنما کی جانب سے رقم وصول کیے جانے کی تصدیق دستیاب آڈٹ تفصیلات سے نہیں ہوتی؛ اس پہلو پر حتمی نتیجے کے لیے تحقیقاتی شواہد ضروری ہوں گے۔
آڈٹ رپورٹ میں درج 2 ارب 73 کروڑ روپے کی رقم بھرتیوں سے متعلق چار معاملات میں مالی بے ضابطگیوں کے اعتراضات کا مجموعہ ہے۔ اسے کسی سیاسی رہنما یا خاندان کی ذاتی وصولی قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم اس حجم کی مالی بے ضابطگیوں نے ذمہ داران کے تعین، سرکاری وسائل کے استعمال اور بھرتیوں کے قانونی طریقۂ کار پر جواب طلبی کو اہم بنا دیا ہے۔
مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت سے متعلق یہ معاملہ اب محض بھرتیوں کے انتظامی تنازع تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری اداروں میں میرٹ، شفافیت اور سیاسی اثرورسوخ کے استعمال سے متعلق وسیع تر سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ تحقیقات کے نتائج ہی واضح کریں گے کہ ان بے ضابطگیوں کے پیچھے انتظامی غفلت تھی، قواعد کی دانستہ خلاف ورزی ہوئی یا مالی بدعنوانی کے الزامات میں مزید حقائق سامنے آتے ہیں