خیبر پختونخوا میں مفتی محمود مرکز کی سرکاری زمین سے تجاوزات واگزار کرانے کے تنازع نے دینی سیاست کے نام پر طلبہ کو ڈھال بنانے اور ذاتی مفادات کے تحفظ کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی پر قائم مفتی محمود مرکز سے تجاوزات ہٹانے کا معاملہ اب محض ایک انتظامی کارروائی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑے سیاسی اور قانونی اسکینڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ایک عام سے مدرسے سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے فضل الرحمان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ڈی آئی خان سے لے کر دارالحکومت اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹر G-6 تک قیمتی جائیدادیں، عالیشان محلات اور درجنوں مدارس کے نام پر اثاثے کھڑے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مذہبی حلقوں نے فضل الرحمان کو مذہب کا سوداگر قرار دے دیا، مدارس اور دفاتر کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری اراضی واگزار کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
سرکاری اراضی واگزار کرانے کی اس کارروائی نے اس پورے نیٹ ورک کی قانونی حیثیت اور مالیاتی شفافیت پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
معاملے کا سب سے زیادہ دردناک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جب ذاتی محلات اور مفتی محمود مرکز کی زمین بچانے کا وقت آتا ہے تو غریب اور پس ماندہ گھرانوں کے ان معصوم بچوں کو آگے کر دیا جاتا ہے جو اپنے والدین کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے دینی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔
غریب والدین اپنے بچوں کو پیٹ کاٹ کر قرآن و حدیث کی تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں، لیکن الزام یہ ہے کہ ان بچوں کو تحفظ دینے کے بجائے ناجائز قبضوں اور تجارتی مفادات کی حفاظت کے لیے بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک طرف خاندان کے افراد اسمبلیوں کی پرآسائش کرسیوں اور بیرونِ ملک سیر سپاٹوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور دوسری طرف غریب کے بچوں کے مقصدمیں لاٹھیاں اور آنسو گیس آتی ہے۔
قومی اسمبلی کا فلور اور دھمکیوں کی سیاست
پاکستانی سیاست میں مذہب کارڈ کے استعمال کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، لیکن جس طرح حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کے فلور سے وفاقی وزراء اور صوبائی حکومت کو کھلی دھمکیاں دی گئیں، اس نے قانون اور آئین کی رٹ کو کھلا چیلنج فراہم کیا ہے۔


