فضل الرحمٰن کے بیٹے اسعد محمود بھی باپ کے نقشِ قدم پر 4,252 بھرتیاں، ایک آسامی کے 15 لاکھ روپے لیتے رہے ، سرکاری رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

فضل الرحمٰن کے بیٹے اسعد محمود بھی باپ کے نقشِ قدم پر 4,252 بھرتیاں،  ایک آسامی کے 15 لاکھ روپے لیتے رہے ، سرکاری رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیرِ مواصلات مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت میں پاکستان پوسٹ کے اندر بھرتیوں اور مالی معاملات سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کے انکشافات سامنے آگئے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ میں بھرتیوں کے لیے مقررہ تعداد سے تجاوز کیا گیا، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سرکاری ملازمتیں مبینہ طور پر 10 سے 15 لاکھ روپے میں فروخت کیے جانے اور بھرتی ہونے والوں کی دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ کمیٹی نے بھرتیوں کا معاملہ تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا۔

آڈٹ دستاویزات کے مطابق فنانس ڈویژن کی ہدایات کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ ایک سے 15 تک کی 3 ہزار 938 خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم پاکستان پوسٹ میں 4 ہزار 252 افراد بھرتی کیے گئے۔ یوں منظور شدہ تعداد سے 314 بھرتیاں زیادہ ہوئیں۔ آڈٹ حکام نے ان بھرتیوں کو قواعد، متعلقہ اجازت ناموں اور سرکاری ہدایات کے منافی قرار دیتے ہوئے اعتراضات اٹھائے۔

رپورٹ کے مطابق بھرتیوں کے عمل میں اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے بعد تقرریاں مکمل کرنے اور پہلے سے ختم کی گئی آسامیوں پر بھی بھرتیوں کے معاملات سامنے آئے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری اجازت نامے کی مدت مئی 2023 میں ختم ہوگئی تھی جبکہ بھرتیوں کا عمل اس کے بعد مکمل کیا گیا۔ آڈٹ نے قرار دیا کہ ان بے ضابطگیوں سے محکمے کی مالی حالت متاثر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:مذہبی حلقوں نے فضل الرحمان کو مذہب کا سوداگر قرار دے دیا، مدارس اور دفاتر کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری اراضی واگزار کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بھرتیوں کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے تو معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ متعدد افراد کی دستاویزات مشکوک یا جعلی ہونے کے اعتراضات سامنے آئے جبکہ بعض افراد نے درخواست دیے یا ٹیسٹ اور انٹرویو کے مراحل سے گزرے بغیر ملازمت حاصل کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر خان نے بھرتیوں کے اس طریقۂ کار پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران یہ الزام بھی سامنے آیا کہ سرکاری ملازمتیں 10 سے 15 لاکھ روپے کے عوض فروخت کی گئیں۔ کمیٹی کے ارکان نے واضح کیا کہ اگر بھرتیوں کے لیے رشوت لی گئی یا دی گئی ہے تو اس میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ حکام نے بھی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور بعض افراد کے خلاف کارروائی کا معاملہ تسلیم کیا، جبکہ بتایا گیا کہ نوکریوں سے فارغ کیے گئے بعض ملازمین نے مختلف ہائی کورٹس سے حکمِ امتناع حاصل کر رکھے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بھرتیوں سے متعلق چار معاملات میں مجموعی طور پر 2 ارب 73 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ یہ رقم بھرتیوں سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا حصہ ہے؛ اسے کسی فرد کی ذاتی وصولی یا جیب میں جانے والی رقم قرار دینے کے لیے الگ شواہد درکار ہوں گے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر اسے نیب کو بھیجنے اور ذمہ داران کے تعین کے لیے تحقیقات کی ہدایت کی۔

مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت میں سامنے آنے والے ان اعتراضات نے وزارتِ مواصلات اور پاکستان پوسٹ کے بھرتی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ بھرتیوں کا معاملہ ہے تو دوسری طرف میرٹ، دستاویزات کی تصدیق اور مبینہ مالی لین دین سے متعلق الزامات ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ تحقیقات میں بھرتیوں کی منظوری دینے والے افسران، عمل درآمد کرنے والے حکام اور مبینہ طور پر مالی فائدہ اٹھانے والوں کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن یا جمعیت علمائے اسلام کے دفتر کو بھرتیوں کا مرکز بنانے اور اربوں روپے ذاتی طور پر وصول کیے جانے کے دعوؤں کی تصدیق دستیاب آڈٹ رپورٹ اور مذکورہ کمیٹی اجلاس کی رپورٹنگ سے نہیں ہوتی۔ تاہم، بھرتیوں کے معاملے میں سامنے آنے والے سرکاری آڈٹ اعتراضات اور پی اے سی کی جانب سے نیب کو بھیجے جانے کا فیصلہ اس کیس کو احتساب کے نقطۂ نظر سے اہم بناتا ہے۔ تحقیقات کے نتائج ہی طے کریں گے کہ قواعد کی خلاف ورزی کس سطح پر ہوئی اور اس کی ذمہ داری کن افراد پر عائد ہوتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles