امریکا میں مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے مبینہ طبی مشورے سے متعلق ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 31 سالہ خاتون کی موت کے بعد ان کے والدین نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ والدین کا الزام ہے کہ چیٹ بوٹ نے ان کی بیٹی کو ڈاکٹر کی نگرانی کے بغیر مرگی کی دوا کم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیٹل کی رہائشی بووین وان مرگی کے مرض میں مبتلا تھیں اور کئی سال سے اس کے علاج کے لیے ادویات استعمال کر رہی تھیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون کو خدشہ تھا کہ ان کی ادویات کے مضر اثرات یادداشت اور بولنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی پریشانی کے باعث انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے رہنمائی حاصل کی۔
چیٹ بوٹ کےمشورے پر دوا کی خوراک کم کردی
والدین کی جانب سے دائر مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے خاتون کو ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر دوا کی خوراک بتدریج کم کرنے کا منصوبہ فراہم کیا۔
بعدازاں رواں سال فروری میں بووین وان اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں۔ طبی حکام کے مطابق ان کی موت کی وجہ مرگی سے متعلق اچانک پیچیدگی تھی۔
خاتون کے والدین نے اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار کمپنی کے مبینہ غیرمحفوظ طبی مشوروں کو قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
اوپن اے آئی کا کیا مؤقف ہے؟
دوسری جانب اوپن اے آئی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی طبی علاج یا ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں ہے۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس اہم سوال کو سامنے لاتا ہے کہ صحت اور علاج جیسے حساس معاملات میں مصنوعی ذہانت پر کس حد تک بھروسا کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق مریضوں کو اپنی مرضی سے ادویات کی خوراک کم یا زیادہ نہیں کرنی چاہیے، خصوصاً مرگی جیسی بیماریوں میں دوا میں تبدیلی ہمیشہ مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔