امریکا نے خفیہ معلومات میڈیا کو فراہم کرنے کے الزام میں اعلیٰ فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی برطرفی کا تعلق حساس معلومات افشا ہونے کے معاملے سے ہے، تاہم پینٹاگون نے تاحال اس کارروائی کی مکمل وجوہات باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی میڈیا نے نام ظاہر نہ کرنے والے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بریٹ سلویا کو جوائنٹ اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق جنرل بریٹ سلویا کی برطرفی خفیہ معلومات میڈیا کو فراہم کیے جانے کے معاملے سے جڑی ہوئی ہے۔ سی بی ایس نیوز نے پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ جنرل بریٹ سلویا خفیہ معلومات میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے متعلق تین پولی گراف ٹیسٹوں میں ناکام رہے تھے۔
پینٹاگون
جوائنٹ اسٹاف کے ترجمان نے ابتدائی طور پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے بریٹ سلویا کی عہدے سے علیحدگی کی تصدیق کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، تاہم کچھ دیر بعد یہ بیان واپس لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :ایران سے جنگ کے بعد امریکی فوجی اڈوں کا مستقبل خطرے میں ہے ،برطانوی اخبار
دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ محکمہ دفاع خفیہ معلومات کو جان بوجھ کر اور غیر مجاز طور پر افشا کرنے کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتتا۔ حساس معلومات کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامی کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے افسر کا نام لیے بغیر کہا کہ اس معاملے اور اس سے متعلق کارروائی کے حالات پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ شان پارنیل کے مطابق معاملہ ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے امریکی محکمہ انصاف کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ انصاف نے اس حوالے سے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ٹرمپ دور میں اعلیٰ فوجی قیادت میں تبدیلیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی فوج کے اعلیٰ عہدوں پر متعدد تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔ فروری 2025 میں صدر ٹرمپ نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس ’سی کیو‘ براؤن کو بھی عہدے سے ہٹا دیا تھا تاہم اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی تھی۔
دیگر برطرف یا عہدوں سے ہٹائے جانے والے اعلیٰ افسران میں امریکی فوج، بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے سربراہان، نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کی قیادت کرنے والے جنرل، امریکی فضائیہ کے نائب سربراہ، نیٹو میں تعینات بحریہ کے ایک ایڈمرل اور فوج کے تین اعلیٰ قانونی عہدیدار بھی شامل ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی پسند کے رہنماؤں کا انتخاب کررہے ہیں۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک ارکان کانگریس نے ان تبدیلیوں پر خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اس سے امریکی فوج کی روایتی غیر سیاسی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ پر کانگریس اور امریکی وزیر دفاع آمنے سامنے، مواخذے کی قرارداد پیش
پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ امریکی فوج میں جنرلز اور ایڈمرلز کی تعداد میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد فوج میں جواب دہی یقینی بنانا ہے۔
وزیر دفاع کا دعویٰ تھا کہ ان تبدیلیوں کے ذریعے ایسے افسران کو ہٹایا گیا جو فوج کو جنگی تیاریوں پر مرکوز رکھنے کی کوششوں سے ہم آہنگ نہیں تھے اور سابقہ حکومتوں کی ’ووک‘ پالیسیوں پر توجہ دیتے رہے تھے۔ انہوں نے ان کٹوتیوں کو بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔


