ملکی سیاسی منظر نامے پر یہ سوال شدت سے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا سیاست کا مقصد عوامی خدمت ہے یا صرف اقتدار کا حصول؟ حالیہ دنوں میں جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ فضل الرحمان کی جانب سے دیے جانے والے ریاست مخالف بیانات اور آئین و قانون کی خلاف ورزیوں نے سیاسی و عوامی حلقوں میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے ۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک مولانا کو اقتدار کے ایوانوں میں حلوے کا حصہ ملتا رہا اور ان کی خاندانی اجارہ داری قائم رہی، تب تک ان کے لیے ہر حکومتی اقدام اور پالیسی بالکل ٹھیک تھی لیکن جیسے ہی اقتدار ان کے ہاتھ سے پھسلا اور حکومت میں حصہ ملنا بند ہوا، انہوں نے اچانک ریاست مخالف بیانیے کو اپنی سیاست کی ڈھال بنا لیا ہے۔
اس تمام صورتحال پر پشاور کے عام شہریوں نے بھی انتہائی دوٹوک اور حقیقت پسندانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے ، آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں پشاور کے عوام کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا سیاسی وطیرہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جب وہ اقتدار یا حکومتی اتحاد کا حصہ ہوتے ہیں تو سب اچھا کہلاتا ہے، لیکن جیسے ہی انہیں اقتدار سے باہر ہونا پڑے، وہ ریاست اور اداروں کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔
شہریوں کا ماننا ہے کہ یہ تمام شور شرابا اور بیانات نظریاتی نہیں بلکہ صرف اور صرف اقتدار کے حصول کی ہوس کا نتیجہ ہیں۔
عوام نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ مولانا نے ہمیشہ اپنے دورِ اقتدار میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے صرف اپنے قریبی رشتہ داروں اور خاص لوگوں کو نوازا ہے ، اس کی ایک بڑی مثال سابق گورنر خیبر پختونخوا اور مولانا کے سمدھی غلام علی ہیں، ماضی میں جو شخص سائیکل پر سفر کرتا تھا اور ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، آج وہ اربوں پتی بن چکا ہے، پراپرٹی کی جتنی بڑی ڈیلیں ہوتی ہیں یہی خاندان خریدتا ہے ، پہچانا ہی نہیں جاتا کہ یہی وہ لوگ ہیں انہوں نےوسائل اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردی ہے۔
🚨حکومت میں حصہ نہ ملنے پر مولانا ریاست مخالف بیانات دے رہے ہیں۔ مولانا نے ہر دور میں اپنے لوگوں کو نوازا ہے، خاص طور پر اپنے سمدھی غلام علی کو، جن کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا اور وہ سائیکل چلاتا تھا، لیکن آج انکے حالات دیکھو وہ اربوں کے مالک ہیں،پشاور شہری
@MoulanaOfficial— Azaad Urdu (@azaad_urdu) October 30, 2026


