اقتدار نہیں ملا تو شور مچاؤ! پشاور کے شہریوں نے فضل الرحمان اینڈ فیملی کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا

اقتدار نہیں ملا تو شور مچاؤ!  پشاور کے شہریوں نے فضل الرحمان اینڈ فیملی کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا

ملکی سیاسی منظر نامے پر یہ سوال شدت سے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا سیاست کا مقصد عوامی خدمت ہے یا صرف اقتدار کا حصول؟ حالیہ دنوں میں جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ  فضل الرحمان کی جانب سے دیے جانے والے ریاست مخالف بیانات اور آئین و قانون کی خلاف ورزیوں  نے سیاسی و عوامی حلقوں میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے ۔

تاریخ اس بات کی گواہ  ہے کہ جب تک مولانا کو اقتدار کے ایوانوں میں حلوے کا حصہ ملتا رہا اور ان کی خاندانی اجارہ داری قائم رہی، تب تک ان کے لیے ہر حکومتی اقدام اور پالیسی بالکل ٹھیک تھی لیکن جیسے ہی اقتدار ان کے ہاتھ سے پھسلا اور حکومت میں حصہ ملنا بند ہوا، انہوں نے اچانک ریاست مخالف بیانیے کو اپنی سیاست کی ڈھال بنا لیا ہے۔

 اس تمام صورتحال پر پشاور کے عام شہریوں نے بھی انتہائی دوٹوک اور حقیقت پسندانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے ، آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں پشاور کے  عوام کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا سیاسی وطیرہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جب وہ اقتدار یا حکومتی اتحاد کا حصہ ہوتے ہیں تو سب اچھا کہلاتا ہے، لیکن جیسے ہی انہیں اقتدار سے باہر ہونا پڑے، وہ ریاست اور اداروں کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔

شہریوں کا ماننا ہے کہ یہ تمام شور شرابا اور بیانات نظریاتی نہیں بلکہ صرف اور صرف اقتدار کے حصول کی ہوس کا نتیجہ ہیں۔

عوام نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ  مولانا نے ہمیشہ اپنے دورِ اقتدار میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے صرف اپنے قریبی رشتہ داروں اور خاص لوگوں کو نوازا ہے ، اس کی ایک بڑی مثال سابق گورنر خیبر پختونخوا اور مولانا کے سمدھی غلام علی ہیں،  ماضی میں جو شخص سائیکل پر سفر کرتا تھا اور ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، آج وہ اربوں پتی بن چکا ہے، پراپرٹی کی جتنی بڑی ڈیلیں ہوتی ہیں یہی خاندان خریدتا ہے ، پہچانا ہی نہیں جاتا کہ یہی وہ لوگ ہیں انہوں نےوسائل اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردی ہے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ  مولانا اقتدار میں کسی پارٹی میں شامل ہوتا ہے تو کوئی تنقید نہیں کرتا لیکن آج دیکھیں مولانا کے سارے رشتہ دار ہی اکٹھے ہوکر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ، سیاست میں مذہب کا کارڈ استعمال کر کے اپنے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے مالی حالات بدلنے کا یہ کھیل اب بالکل بے نقاب ہو چکا ہے ، ملک کے باشعور عوام اب اس حقیقت کو بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی تمام تر سیاست عوامی خدمت کے گرد نہیں بلکہ خاندانی لوٹ مار، مراعات اور اقتدار کے حصول کے گرد گھومتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مفاد ملے تو ریاست ماں کے جیسی ، اور نہ ملے تو زہر افشانی شروع ! فضل الرحمٰن کی دوغلی سیاست کا پول ڈی آئی خان کے عوام نے کھول دیا

عوام کا یہ سوال ہے کہ عام آدمی تو مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، لیکن ان  کے اثاثے راتوں رات کیسے آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں؟  جب تک  اپنے ذاتی مفادات اور خاندانی اجارہ داری کو ترجیح دیتے رہیں گے، عوام کا ان کے بیانات پر سے اعتماد اٹھتا رہے گا۔

 پشاور کے شہریوں کی یہ رائے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اب باشعور عوام کو سیاسی نعرے بازی اور ذاتی مفادات کی یہ سیاست بخوبی سمجھ آ چکی ہے ،  ریاست پر تنقید کرنے سے پہلے فضل الرحمن  کو اپنے اس خاندانی نیٹ ورک  کی دولت کا جواب دینا ہوگا، ورنہ عوام کا یہ غصہ ان کے سیاسی بیانیے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گا۔

editor

Related Articles