7 مطالبات پر ہاں ہوگی تو بات آگے بڑھے گی،ایران کا امریکا کو پیغام

7 مطالبات پر ہاں ہوگی تو بات آگے بڑھے گی،ایران کا امریکا کو پیغام

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تہران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں کسی بھی قسم کی پیشرفت کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔  

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی شرائط ثالثوں کو متعدد مرتبہ اور واضح انداز میں پہنچائی جاچکی ہیں۔ تہران نے اپنے مطالبات کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں چھوڑا اور متعلقہ فریقوں کو بتا دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی پیشرفت کن نکات سے مشروط ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :طاقت اور دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے والا یکطرفہ عالمی نظام اب ختم ہو چکا ، ایرانی سپیکرباقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکا کی جانب سے دباؤ ڈالنے اور مراعات کا لالچ دینے کی حکمت عملی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات ایران کے مؤقف پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ  تہران دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوگا اور مذاکرات میں پیشرفت صرف اسی صورت ممکن ہے جب واشنگٹن ایران کی سات شرائط تسلیم کرے۔

ایران کے 7 مطالبات 

واضح رہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سات شرائط پیش کی تھیں۔ ان میں امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیلی جنگ کا خاتمہ نمایاں مطالبات ہیں۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کے خلاف عائد پابندیوں اور دباؤ کے اقدامات ختم کیے جائیں اور منجمد اثاثوں تک رسائی بحال کی جائے۔ اسی طرح لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کو بھی ایران نے اپنے مطالبات میں شامل کیا ہے۔

مذاکرات کا مستقبل

قالیباف کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط کو بنیادی اہمیت دے رہا ہے۔ تہران نے ثالثوں کے ذریعے اپنا مؤقف پہنچانے کے باوجود واضح کیا ہے کہ محض دباؤ یا مراعات کی پیشکش سے مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہوگی۔

 یہ بھی پڑھیں :لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو امریکا سے مذاکرات روک دینگے، ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا انتباہ

ایرانی اسپیکر کے مطابق امریکا کو مذاکرات میں پیشرفت مطلوب ہے تو اسے پہلے ایران کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ اس طرح تہران نے بات چیت کے اگلے مرحلے کو اپنی سات شرائط کی منظوری سے مشروط کردیا ہے۔

editor

Related Articles