سمندر کی گہرائیوں میں چھپا بجلی کا خزانہ، سائنس دانوں نے نئی مچھلی دریافت کرلی

سمندر کی گہرائیوں میں چھپا بجلی کا خزانہ، سائنس دانوں نے نئی مچھلی دریافت کرلی

سمندر کی گہرائیوں سے سائنس دانوں نے ایک حیران کن دریافت کی ہے۔ بحیرہ عرب کے جنوب مشرقی حصے میں بجلی کے جھٹکے پیدا کرنے والی مچھلی کی ایک نئی قسم سامنے آئی ہے، جو اپنے شکار کو بے حرکت کرنے اور دشمنوں سے بچنے کے لیے برقی طاقت استعمال کرتی ہے۔

ماہرین نے اس نئی مچھلی کو ’ٹیٹرونارسی رامان مورتی‘ کا نام دیا ہے۔ محققین کے مطابق شمالی بحر ہند میں ٹیٹرونارسی نسل کی یہ پہلی تصدیق شدہ دریافت ہے۔

نئی مچھلی کی شکل و صورت بھی منفرد

سائنس دانوں کے مطابق اس مچھلی کی پشت کا رنگ گہرا سیاہ یا بھورا ہے، جبکہ اس کا جسم لمبائی کے مقابلے میں زیادہ چوڑا ہے۔ اس کی شناخت کے لیے جسمانی ساخت کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے گئے، جن سے اس کی الگ نوع ہونے کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:گائیں بھی بن گئیں وی آئی پی، آخر 50 سے زائد گایوں کے لیے پورا طیارہ کیوں بک کیا گیا؟

220 وولٹ تک بجلی کے جھٹکے کیسے دیتی ہے؟

اس مچھلی کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس نسل کی بعض مچھلیاں اپنے مخصوص برقی اعضا کی مدد سے 220 وولٹ تک کے جھٹکے پیدا کرسکتی ہیں۔

یہ برقی جھٹکے انہیں شکار کو بے حرکت کرنے اور ممکنہ حملہ آوروں سے اپنا دفاع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نئی نوع کی دریافت سمندر کی گہرائیوں میں موجود حیاتیاتی تنوع کو سمجھنے کے لیے اہم پیش رفت ہے اور اس سے زیرِ سمندر زندگی کے مزید پوشیدہ راز سامنے آنے کی امید ہے۔

editor

Related Articles