اب کچرا بھی قیمتی ہوگیا، مفت کھانے کی سہولت متعارف

اب کچرا بھی قیمتی ہوگیا، مفت کھانے کی سہولت متعارف

پرانے اخبار، پلاسٹک، کتابیں اور دیگر ناکارہ سامان کے بدلے کھانا، چائے اور کافی حاصل کرنے کا موقع، صفائی کے ساتھ خواتین کے لیے روزگار کے دروازے بھی کھل گئے۔

گھروں میں جمع ہونے والا کچرا عموماً کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے، لیکن اگر یہی کچرا آپ کے لیے مفت کھانے کا ذریعہ بن جائے تو؟ بھارت کے شہر بھوپال میں ایک ایسا منفرد منصوبہ شروع کیا گیا ہے جہاں شہری اپنا قابلِ استعمال خشک کچرا جمع کرا کے کھانے پینے کی اشیا حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آسمان سرخ، تیز ہوائیں اور بارش،بھارت میں موسم کی خطرناک صورتحال

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھوپال میں مختلف مقامات پر ’کچرا کیفے‘ قائم کیے گئے ہیں، جن کا بنیادی مقصد شہر کو صاف ستھرا بنانا، کچرے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا اور شہریوں میں صفائی کا شعور پیدا کرنا ہے۔

کچرے کے بدلے کھانا کیسے ملتا ہے؟

اس منفرد کیفے میں شہری اپنے گھروں سے پرانے اخبارات، کتابیں، کاغذ، گتے کے ڈبے، پلاسٹک، پرانے کپڑے اور الیکٹرانک کچرا (ای ویسٹ) لے کر آتے ہیں۔کیفے کا عملہ جمع کرائے گئے سامان کا وزن اور اس کی نوعیت چیک کرتا ہے، جس کے بعد شہریوں کو مخصوص پوائنٹس یا ’کچرا کرنسی‘دی جاتی ہے۔

ان پوائنٹس کے ذریعے لوگ کیفے سے کھانا، چائے، کافی اور دیگر دستیاب اشیا حاصل کرسکتے ہیں۔ یوں جو چیز پہلے بے کار سمجھ کر پھینک دی جاتی تھی، وہ شہریوں کے لیے فائدے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رات کی ڈیوٹی موت کا پیغام بن گئی، یو اے ای میں فوڈ رائیڈر ٹریفک حادثہ میں چل بسا

خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع

اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس سے مقامی خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ خواتین کیفے کے انتظامی امور اور کچرے سے کارآمد مصنوعات تیار کرنے میں حصہ لیتی ہیں۔ اس طرح انہیں آمدنی حاصل کرنے کے مواقع ملتے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

صفائی بھی، بچت بھی اور روزگار بھی

کچرا کیفے کا یہ تصور شہری زندگی کے ایک بڑے مسئلے کا دلچسپ حل پیش کرتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف کچرے کو سڑکوں اور کوڑے دانوں میں پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے بلکہ ضرورت مند افراد کے لیے کھانے کی سہولت اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جارہے ہیں۔

یہ منفرد ماڈل اس بات کی مثال ہے کہ اگر کچرے کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ ماحولیاتی مسئلہ بننے کے بجائے معاشی اور سماجی فائدے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

editor

Related Articles