اے آئی نے گوگل کی بادشاہت کو خطرے میں ڈال دیا، 500 ارب ڈالر ڈوب گئے

اے آئی نے گوگل کی بادشاہت کو خطرے میں ڈال دیا، 500 ارب ڈالر ڈوب گئے

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کاروباری مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسی دوران گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کے حصص میں نمایاں گراوٹ نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرلی۔

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق الفابیٹ کے حصص کی قیمت میں 12 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ اس گراوٹ کو کمپنی کے لیے ایک غیر معمولی دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

گوگل کے حصص گرنے کی2 بڑی وجوہات

 چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی سرچ کا بڑھتا رجحان

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کی بڑھتی مقبولیت سے صارفین روایتی گوگل سرچ کا استعمال کم کرسکتے ہیں۔

پاکستانی پاسپورٹ میں بڑی تبدیلی، جدید چِپ اور بائیومیٹرک سیکیورٹی متعارفیہ بھی پڑھیں:

اگر ایسا ہوتا ہے تو گوگل کے سرچ انجن پر اشتہارات کے ذریعے ہونے والی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے، کیونکہ کمپنی کے کاروبار کا ایک بڑا حصہ اسی نظام سے وابستہ ہے۔

 اے آئی پر بھاری سرمایہ کاری اور بڑھتے اخراجات

گوگل کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کمپنی نے 2026 کی تیسری سہ ماہی میں 51.4 ارب ڈالر خرچ کیے، جس کا بڑا حصہ اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز پر صرف کیا گیا۔

کلاؤڈ بزنس میں ترقی بھی سرمایہ کاروں کو مطمئن نہ کرسکی

دوسری جانب گوگل کے کلاؤڈ کاروبار کی آمدنی بڑھ کر 30.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم اس مثبت پیش رفت کے باوجود سرمایہ کاروں کے خدشات ختم نہیں ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل انتخابات کا نیا دور، الیکشن کمیشن نے اے آئی ضابطہ اخلاق پر تجاویز مانگ لیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اب اصل امتحان صرف مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کرنا نہیں، بلکہ اس سرمایہ کاری کو مستقل آمدنی اور منافع میں تبدیل کرنا ہے۔

گوگل کے حصص میں ہونے والی یہ مبینہ گراوٹ ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے: کیا مصنوعی ذہانت مستقبل میں گوگل جیسے بڑے سرچ انجنز کے روایتی کاروباری ماڈل کو تبدیل کردے گی؟

ٹیکنالوجی کی دنیا میں جاری یہ مقابلہ اب صرف نئی اے آئی بنانے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اصل جنگ صارفین، اشتہارات اور مستقبل کی آمدنی پر قبضے کی بن چکی ہے۔

editor

Related Articles