جمعیت علما اسلام (ف) کے زیر اثر غیر رجسٹرڈ مدارس کی سیاسی وابستگیوں، کم عمر طلبہ کے استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے ہوشربا انکشافات نے مولانا فضل الرحمان کی سیاست پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان بھر میں اس وقت تقریباً 40000 سے زیادہ دینی مدارس کام کر رہے ہیں، جن میں لاکھوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے نصف سے زیادہ مدارس غیر رجسٹرڈ ہیں، جنہوں نے جے یو آئی (ف) کی قانون شکنی اور آئینی حدود کی خلاف ورزی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
ان غیر رجسٹرڈ اداروں کو حکومتی قوانین سے بالا تر رکھ کر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے نہ صرف تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ قومی سلامتی کے طے شدہ ریگولیٹری فریم ورک کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
دینی اداروں کا سیاسی آلے کے طور پر استعمال
انکشافات کے مطابق فضل الرحمان کی زیر سر پرستی جے یو آئی (ف) نے اپنے زیر اثر دینی اداروں اور مدارس کو ایک منظم سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اداروں کے اس سیاسی استعمال نے مذہبی تعلیم کی بنیادی روح کو متاثر کیا ہے۔
مدارس کے بنیادی مقصد یعنی دینی تعلیم کی فراہمی کے بجائے، ان اداروں کا رخ سیاسی جوڑ توڑ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں پر دباؤ بڑھانے کی جانب موڑ دیا گیا ہے، جس سے ان کی آئینی حیثیت متنازع ہو چکی ہے۔
کم عمر طلبہ کی ذہن سازی اور جبر کا عنصر
رپورٹ کے مطابق ان مدارس میں زیر تعلیم کم عمر اور بالخصوص ناپختہ ذہن کے حامل طلبہ کی باقاعدہ فکری ذہن سازی کی جاتی ہے۔ ان بچوں کو ایک خاص سیاسی و مسلکی بیانیے پر ڈھالا جاتا ہے۔
انکشاف ہوا ہے کہ اس ذہن سازی کے ساتھ ساتھ طلبہ کو شدید نفسیاتی و انتظاماتی دباؤ کے تحت سیاسی جلسوں، ریلیوں، احتجاجی مظاہروں اور اسلام آباد کے طویل دھرنوں میں شرکت پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان معصوم طلبہ کو اپنی تدریسی سرگرمیاں اور تعلیم چھوڑ کر سڑکوں پر احتجاج کے لیے لایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگتا ہے بلکہ ان کا بنیادی بچپن اور حقوق بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔
مالی وسائل، عطیات اور شفافیت پر سنگین سوالات
جے یو آئی (ف) سے منسلک اور بالخصوص غیر رجسٹرڈ دینی اداروں کو ملنے والے اندرونی اور بیرون ملک عطیات اور مالی وسائل کی شفافیت پر انتہائی سنگین سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دینی اداروں کی مالی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے کے فنڈز کا آڈٹ نہیں ہو پاتا۔ آڈٹ سے متعلق ان بے قاعدگیوں اور غیر شفاف طریقہ کار نے جماعت کی مالی ایمانداری کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
ان عطیات کے اصل ذرائع، ان کی تقسیم اور انہیں مذہبی مقاصد کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی مہمات میں استعمال کرنے سے متعلق شواہد نے اعلیٰ حکومتی و مالیاتی اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
عسکری تنظیموں، فتنہ الخوارج اور نیٹ ورکس سے روابط
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انتہائی حساس اور ہوشربا پہلوؤں میں سب سے اہم یہ کہ فضل الرحمان کے زیراثر بعض مدارس میں کالعدم ٹی ٹی پی یعنی ’فتنہ الخوارج‘ کے کارکنوں کی مبینہ تربیت اور مالی اعانت بھی کی جاتی ہے۔
ان اداروں کا استعمال بعض متنازع عناصر کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کی تربیت گاہوں کے طور پر ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں سے دہشتگردانہ نظریات کو تقویت ملتی رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مولانا فضل الرحمان اور ان کے قریب ترین حلقوں کے گہرے روابط کے دعوؤں نے بھی عالمی اور قومی سطح پر سخت سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ تمام روابط ملکی انسدادِ دہشتگردی کی پالیسیوں اور قومی عملدرآمد پروگرام (نیشنل ایکشن پلان) کے سراسر منافی ہیں اور ریاست پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی و سلامتی کے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
قومی سلامتی اور تعلیمی اصلاحات کا تقاضا
ریاستی سطح پر یہ صورتحال اس بات کی تقاضا کرتی ہے کہ مذہبی تعلیم کے تقدس کو سیاسی مقاصد کے لیے پامال ہونے سے روکا جائے۔ آئین اور قانون کے دائرہ کار سے باہر چلنے والے ادارے ملکی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
جب تک تمام مدارس کا ایک مرکزی آڈٹ، شفاف رجسٹریشن اور نصابی اصلاحات کا نظام نافذ نہیں کیا جاتا، تعلیمی اداروں کو سیاسی محاذ آرائی اور پسند ناپسند کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا، جس سے معاشی و سیاسی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
