“احتجاج کی دکھیاری کالیں اور ٹائیں ٹائیں فش؛ سڑکوں پر نکلنے سے توبہ، پی ٹی آئی وفاق کے سامنے ہاتھ جوڑنے کے لیے تیار

“احتجاج کی دکھیاری کالیں اور ٹائیں ٹائیں فش؛ سڑکوں پر نکلنے سے توبہ، پی ٹی آئی وفاق کے سامنے ہاتھ جوڑنے کے لیے تیار

تحریک انصاف کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا آن لائن اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب پارٹی قیادت کو سنگین سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اجلاس میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا ہے  جسے سیاسی حلقوں میں پی ٹی آئی کے سخت مؤقف سے پسپائی اور یوٹرن قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے بیشتر اراکین نے اعتراف کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کارکنوں کا احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہ نکلنا ہی “بہتر فیصلہ” تھا، کیونکہ اگر ورکرز باہر نکلتے تو 9 مئی جیسے ناخوشگوار واقعات کا دوبارہ سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :حکومت جانے کے بعد پی ٹی آئی کے ہو ش ٹھکانے آ گئے،مذاکرات کے لیے منتیں ترلے،رانا ثناء نے تصدیق  کر دی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اس بات کا صریح اعتراف ہے کہ پارٹی میں اب سڑکوں پر نکلنے اور دھرنے دینے کی سکت باقی نہیں رہی، اور احتجاج کی تمام بڑی کالیں محض “ہوائی فائرنگ” ثابت ہوئی ہیں۔

اجلاس کے دوران سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو وفاق سے ہونے والے مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے کی بھی بھرپور حمایت کی گئی تاکہ کسی طرح گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو واپس لینے کی راہ ہموار کی جا سکے اور پارٹی کو اس کا مبینہ مینڈیٹ مل سکے۔

دوسری جانب، صوبائی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے  بھی نجی ٹی وی سے  گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پارٹی ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت تلخیاں کم کرے اور فوری طور پر گورنر راج اور ایمرجنسی کو ہٹایا جائے۔

 یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں ;مذاکرات کی بھیک، پرخود ساختہ لیڈروں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا

کبھی “سومنات فتح کرنے” اور سڑکوں پر آگ لگانے کے بڑے بڑے دعوے کرنے والی پی ٹی آئی اب اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے پینترا بدلتے ہوئے وفاق کے سامنے ہاتھ جوڑنے اور مذاکرات کی میز پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نظر آ رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے نام پر ہونے والی یہ “ٹائیں ٹائیں فش” اب پارٹی کی اندرونی کمزوری اور پے در پے سیاسی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت بن چکی ہے۔

editor

Related Articles