دین کے نام پر خاندانی لوٹ مار، فضل الرحمٰن کا ضمیر ننگا، پی ٹی سی ایل کا معمولی ملازم بھائی راتوں رات کمشنر بنوا لیا، پارسائی کا پردہ چاک ہوگیا
Home - اہم خبریں - دین کے نام پر خاندانی لوٹ مار، فضل الرحمٰن کا ضمیر ننگا، پی ٹی سی ایل کا معمولی ملازم بھائی راتوں رات کمشنر بنوا لیا، پارسائی کا پردہ چاک ہوگیا
مذہبی سادگی، زہد اور تقویٰ کا جھوٹا پرچار کرنے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا ایک اور بھیانک اور منافقانہ چہرہ دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب ہو گیا ہے۔ ایک طرف اسٹیج پر کھڑے ہو کر دین کی تبلیغ اور وعظ و نصیحت کرنے والے مولانا نے دوسری طرف اپنے ذاتی مفادات اور اقربا پروری کے لیے بددیانتی کی تمام حدیں پار کر دیں۔
سرکاری آڈٹ دستاویزات اور اسٹیبلشمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق، مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا بدترین استعمال کرتے ہوئے پی ٹی سی ایل (PTCL) کے ایک معمولی ملازم اور اپنے سگے بھائی ضیاء الرحمٰن کو پبلک سروس کمیشن کے تمام قوانین کو پیروں تلے روند کر براہِ راست گریڈ 19 کا اعلیٰ افسر بنوا دیا۔
عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس میگا اسکینڈل پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ دین کو اپنی سیاست کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا اور ایک باقاعدہ کاروباری و سیاسی جماعت بنا کر ریاستِ پاکستان سے ذاتی اور خاندانی فائدے اٹھائے۔
سرکاری مانیٹرنگ اور آڈٹ پیرا گراف کے مطابق یہ اندھیر نگری سنہ 2007ء میں ایم ایم اے (MMA) کی صوبائی حکومت کے آخری دنوں میں مچائی گئی۔ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمٰن، جو کہ پی ٹی سی ایل کے ایک عام اور معمولی درجے کے ملازم تھے، انہیں صوبائی سول سروس کا حصہ بنانے کے لیے قانون کا سرعام جنازہ نکالا گیا۔ اس وقت کے جے یو آئی کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی پر دباؤ ڈال کر مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے بھائی کو خیبر پختونخوا کی پروونشل مینجمنٹ سروس (PMS) میں براہِ راست گریڈ 19 کا افسر ضم (Absorb) کروا لیا۔
آڈٹ حکام نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس تقرری کو سراسر غیر قانونی اور بدترین میرٹ کشی قرار دیا ہے۔ قانون کے مطابق، گریڈ 19 جیسے اعلیٰ اور حساس انتظامی عہدے پر پہنچنے کے لیے کسی بھی شہری کو پبلک سروس کمیشن کا انتہائی سخت امتحان پاس کرنا پڑتا ہے یا پھر بیس سال کی طویل سرکاری ملازمت اور ترقی کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے بھائی کے لیے کسی امتحان یا قانون کی پروا نہیں کی اور راتوں رات انہیں صوبے کا اعلیٰ ترین افسر بنا کر کمشنر افغان رفیوجیز اور کراچی جیسے شہر کا ڈپٹی کمشنر (DC) لگوا دیا، تاکہ سرکاری وسائل پر خاندانی قبضہ برقرار رکھا جا سکے۔
اس میگا اسکینڈل نے مولانا فضل الرحمٰن کی اس سیاست کو سرعام ننگا کر دیا ہے جہاں وہ غریب کے بچوں کو مدارس اور سڑکوں پر احتجاج کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن جب نوکریوں اور مراعات کی باری آتی ہے تو اپنے خاندان کے معمولی ملازم بھائیوں کو بھی غیر قانونی طور پر اعلیٰ ترین سرکاری کرسیوں پر بٹھا دیتے ہیں۔ آڈٹ بیورو نے اس غیر قانونی شمولیت (Illegal Absorption) کو فلیگ کرتے ہوئے اسے قومی خزانے پر ڈاکہ اور سنگین جرم قرار دیا ہے، جس کے بعد اب مولانا کی نام نہاد مذہبی سیاست اور بددیانتی کے خلاف عوامی غصہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔