قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم ابھی تک اپنی بہترین اور مکمل کرکٹ نہیں کھیل سکی، تاہم کھلاڑی فائنل میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ انہیں اس وقت حیرت ہوتی ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی سنجیدگی سے نہیں کھیل رہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی انہیں غیر سنجیدگی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم کے بعض بیٹرز خاطر خواہ رنز نہیں بنا سکے، تاہم امید ہے کہ وہ فائنل میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔
سلمان علی آغا نے بابر اعظم اور فخر زمان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کھلاڑی گزشتہ دس سال سے ون ڈے کرکٹ کے بہترین بیٹرز میں شمار ہوتے ہیں اور کئی بڑی سیریز میں ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فخر زمان فائنل میں عموماً اچھی بیٹنگ کرتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ بابر اعظم اور فخر دونوں اہم رنز بنائیں گے۔
آل راؤنڈر نے کہا کہ ٹیم نے جن میدانوں میں میچز کھیلے، وہاں کی پچز کے مطابق ہی اسکور بنائے اور ان کا دفاع بھی کیا۔ تاہم بیٹرز کو اپنی نصف سنچریوں کو بڑی اننگز میں تبدیل کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق اگر بیٹرز طویل اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے تو پاکستان 350 سے زائد رنز بھی بنا سکتا ہے۔ موجودہ ون ڈے کرکٹ میں بڑے اہداف دینا کامیابی کے لیے اہم ہوتا جا رہا ہے۔
شاداب اور حارث کی بیٹنگ کی تعریف
سلمان علی آغا نے شاداب خان اور حارث رؤف کی شاندار بیٹنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں نے دباؤ میں اعصاب پر قابو رکھا۔ ایسے مقابلے روز روز دیکھنے کو نہیں ملتے۔
انہوں نے سیریز کے دوران کھلاڑیوں کو ڈراپ کیے جانے کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کے خیال میں ایسا کرنا اچھی بات نہیں، امید ہے مستقبل میں ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔
شائقین سے سپورٹ کی اپیل
کپتانی کے دباؤ سے متعلق سوال پر سلمان علی آغا نے کہا کہ کپتان پر دباؤ ضرور ہوتا ہے، تاہم اب وہ پہلے کے مقابلے میں کم دباؤ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے شائقین سے اپیل کی کہ فائنل میں بھی قومی ٹیم کو بھرپور سپورٹ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں بھی اسٹیڈیم شائقین سے بھرا ہوا تھا اور امید ہے کہ لاہور میں بھی ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملے گا۔