مذہبی سادگی کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر معصوم عوام اور سادہ لوح مدارس کے طلبہ کے جذبات سے کھیلنے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ فضل الرحمان کی مفادات پر مبنی سیاست کا ایک اور شرمناک باب دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ طشت از بام ہو چکا ہے۔ ایک طرف اسٹیج پر کھڑے ہو کر افغانیوں اور افغان طالبان سے مذہبی و نظریاتی محبت کا کھلم کھلا پرچار صرف اس لیے کیا جاتا رہا کیونکہ افغان طالبان ان کے ہی زیرِ سایہ چلنے والے مدارس کے طالب علم رہے ہیں، لیکن دوسری طرف اسی مبینہ محبت کی آڑ میں افغان مہاجرین کے نام پر آنے والے اربوں روپے کے بین الاقوامی اور سرکاری فنڈز پر مولانا کے اپنے خاندان نے ننگا ڈاکہ ڈالا۔
احتساب کے قومی ادارے (نیب) اور آڈٹ حکام کی جانب سے سامنے آنے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی ایما اور سیاسی دھونس کے بل بوتے پر ان کے سگے بھائی ضیاء الرحمٰن نے کمشنریٹ فار افغان رفیوجیز کے سیاہ و سفید کا مالک بن کر بے پناہ لوٹ مار مچائی۔
قومی احتساب بیورو (نیب) اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے دین کو بطور سیاسی کاروبار استعمال کر کے نہ صرف ریاست سے ذاتی فائدے اٹھائے بلکہ اپنے بھائی ضیاء الرحمٰن کو افغان مہاجرین کا کمشنر تعینات کروا کر فنڈز کی بندر بانٹ کا باقاعدہ نیٹ ورک چلایا۔ دستاویزی حقائق کے مطابق، ضیاء الرحمٰن کے دورِ تعیناتی میں افغان مہاجرین کی امداد، بحالی اور انفراسٹرکچر کے لیے اقوامِ متحدہ (UNHCR) اور وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے اربوں روپے کے فنڈز اور سرکاری مشینری مبینہ کرپشن کی نذر ہو گئی۔
نیب نے اس میگا اسکینڈل میں آفیشل انکوائری کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رفیوجی کمشنریٹ کے زیرِ استعمال کروڑوں روپے مالیت کی بھاری سرکاری مشینری، بلڈوزرز، گاڑیاں اور دیگر قیمتی آلات کو قواعد و ضوابط کو ہوا میں اڑا کر اونے پونے داموں من پسند نجی فرمز کو فروخت کیا گیا اور اس سے حاصل ہونے والی بھاری رقوم براہِ راست مولانا کے خاندان کی جیبوں میں گئیں۔
اسکینڈل کی سب سے بھیانک حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف مولانا فضل الرحمٰن پاکستان اور بین الاقوامی فورمز پر مظلوم افغان مہاجرین کے سب سے بڑے ہمدرد بن کر سامنے آتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے بھائی انہی بے سہارا مہاجرین کے فنڈز میں خورد برد کے کیسز میں نیب کی عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
آڈٹ پیرا گراف میں واضح کیا گیا ہے کہ کمشنریٹ کے اندر ہونے والی ان غیر قانونی خریداریوں اور سرکاری املاک کی غیر قانونی فروخت سے قومی خزانے اور فنڈز کو شدید نقصان پہنچا۔ عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اسکینڈل مولانا فضل الرحمٰن کی نام نہاد مذہبی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے جہاں یہ ثابت ہو گیا کہ ان کی افغان یکجہتی کا اصل مقصد صرف مدارس کے بچوں کو سیاسی ڈھال بنانا تھا جبکہ پردے کے پیچھے ان کا بھائی افغانیوں کے نام پر آنے والے مالِ مفت پر بے دردی سے ہاتھ صاف کر رہا تھا۔ نیب نے اس پورے نیٹ ورک کی کڑیوں کا سراغ لگا کر مولانا کے بھائی کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین چارجز عائد کر رکھے ہیں۔