2036 میں دولت بے معنی ہوجائے گی؟ ایلون مسک نے کیا پیشگوئی کردی

2036 میں دولت بے معنی ہوجائے گی؟ ایلون مسک نے کیا پیشگوئی کردی

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے مستقبل سے متعلق ایک نئی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس میں ترقی کے بعد ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب لوگوں کے لیے پیسے بچانا بے مقصد ہوجائے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں کہا کہ مستقبل میں مشینیں اتنی بڑی تعداد میں اشیا اور خدمات فراہم کرنے کے قابل ہوجائیں گی کہ انسانوں کو اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ملازمتوں اور آمدنی کا تصور بدل جائے گا

ایلون مسک کے مطابق اگر ٹیکنالوجی اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو ملازمت، آمدنی اور بچت سے متعلق انسانوں کے روایتی تصورات میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اے آئی اور روبوٹس کی مدد سے پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں اشیا اور خدمات کی فراہمی کا نظام بھی بدل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی نے انسانوں کے بارے میں کیا رائے قائم کرلی؟ 14 ماڈلز کے حیران کن نتائج

2036 تک دولت بے معنی ہونے کی پیشگوئی

اس سے قبل جولائی میں ایک انٹرویو کے دوران بھی ایلون مسک نے پیشگوئی کی تھی کہ 2036 تک دولت لوگوں کے لیے بے معنی ہوسکتی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس پیداوار کے عمل کو انتہائی مؤثر بنا دیں گے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ آئندہ 5 برسوں میں اے آئی انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے۔ تاہم یہ تمام باتیں ایلون مسک کی مستقبل سے متعلق پیشگوئیاں ہیں، انہیں یقینی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی ترقی روزگار، معیشت اور عام انسان کی زندگی کو کس حد تک تبدیل کرتی ہے۔

editor

Related Articles