مذہب کے نام پر سیاست چمکانے اور غریب عوام کے بچوں کو مدارس اور سڑکوں پر دھرنوں کے لیے استعمال کرنے والی جماعت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کا ایک اور کرپشن سے آلودہ چہرہ دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب ہو گیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس اور نیب دستاویزات کے مطابق، وفاق میں مالدار اور اثر و رسوخ والی وزارتوں پر نظریں جمائے رکھنے والی جے یو آئی (ف) کو جب بھی وفاقی وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا قلمدان ملا، وہاں میرٹ، قانون اور اخلاقیات کا سرعام جنازہ نکالا گیا
دستاویزی حقائق کے مطابق، جے یو آئی (ف) کو وفاق میں وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس دو بار ملی پہلی مرتبہ سنہ 2008ء سے 2013ء تک اور دوسری مرتبہ پی ڈی ایم (PDM) حکومت کے دوران اپریل 2022ء سے اگست 2023ء تک، جب جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا عبد الواسع وفاقی وزیر مقرر ہوئے ۔
ان دونوں ادوار کی ہولناک آڈٹ رپورٹس نے ثابت کر دیا ہے کہ وعظ و نصیحت کرنے والے ان مذہبی رہنماؤں نے پردے کے پیچھے سرکاری پلاٹوں، فنڈز اور گھروں کی بندر بانٹ کر کے بددیانتی کی تمام حدیں عبور کر دیں
اس میگا اسکینڈل کی سب سے بھیانک حقیقت اسلام آباد کے اسٹیٹ آفس میں سامنے آئی، جہاں جے یو آئی کے وزراء کے ادوار میں سرکاری ملازمین کے لیے مخصوص گھروں اور فلیٹس کی الاٹمنٹ کو ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ اور نیب کی انکوائری کے مطابق، ہزاروں حقدار سرکاری ملازمین سالہا سال سے جنرل ویٹنگ لسٹ میں اپنی باری کا انتظار کرتے رہے، جبکہ اسٹیٹ آفس کے افسران نے منسٹری کے بااثر حلقوں کی ایما پر نجی ایجنٹوں اور جے یو آئی کے پسندیدہ کارکنوں سے بھاری رشوت لے کر سیکڑوں جعلی الاٹمنٹ لیٹرز (Fake Allotments) جاری کیے ۔ قانون اور کوٹے سے ہٹ کر کی جانے والی ان غیر قانونی الاٹمنٹس کے خلاف بعد میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کو باقاعدہ فوجداری مقدمات درج کرنے پڑے۔
صرف سرکاری گھر ہی نہیں، بلکہ وفاقی دارالحکومت کے قیمتی ترین سیکٹرز F-14 اور F-15 کے ہاؤسنگ پراجیکٹس میں بھی جے یو آئی کے دورِ وزارت میں اربوں روپے کا میگا سوسائٹی اسکینڈل فلیگ ہوا ۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کے ان پراجیکٹس کا جب آڈیٹر جنرل نے باریک بینی سے جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ سینیئر مینجمنٹ نے مخصوص ٹھیکیداروں اور نااہل ڈویلپرز کو اربوں روپے کے ٹھیکے دیے تاکہ بھاری غیر قانونی کمیشن اور کک بیکس (Kickbacks) وصول کیے جا سکیں۔
اس مبینہ کرپشن کا بھانڈا اس وقت بیچ چوراہے پھوٹا جب اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے ان پراجیکٹس کے اندر 26 سنگین قانونی، انتظامی اور مالی بے ضابطگیاں پائیں اور عدالتِ عالیہ کے ڈویژن بینچ نے اس پورے پراجیکٹ کو منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا، جس سے غریب الاٹیز اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا رینٹل اور ڈویلپمنٹل نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی طرح “گرین انکلیو-I” اور “لائف اسٹائل ریزیڈنسی G-13” جیسے پراجیکٹس میں سرکاری ملازمین سے پلاٹس اور اپارٹمنٹس کے نام پر جو اربوں روپے اکٹھے کیے گئے تھے انہیں بھی مبینہ لوٹ مار کی نذر کیا گیا ۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، ان پراجیکٹس کے فنڈز کو متبادل مدات اور غیر منظور شدہ ایڈوانس ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا گیا
مینوفیکچررز اور من پسند فرموں کو بغیر بینک گارنٹی کے کروڑوں روپے ایڈوانس دیے گئے لیکن کام کئی سال تک مکمل نہیں کیا گیا، جس پر موجودہ وزارتِ ہاؤسنگ نے بھی جے یو آئی کے دور کی ان طویل تاخیر اور مالی بے ضابطگیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام پراجیکٹس کے دوبارہ شفاف آڈٹ کے احکامات جاری کیے ہیں
وفاقی عمارات کی تزئین و آرائش اور فرنیچر کی خریداری میں بھی پیپرا (PPRA) رولز کو ہوا میں اڑاتے ہوئے اشتہار دیے بغیر، مارکیٹ ریٹ سے 200 فیصد زائد نرخوں پر بل پاس کرائے گئے ۔ عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام تفصیلات ثابت کرتی ہیں کہ جے یو آئی (ف) نے دین کو ہمیشہ اقتدار کے حصول اور خاندانی و سیاسی فائدے اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے، اور ان کی زیرِ نگرانی ہاؤسنگ منسٹری میں ہونے والا یہ کھلواڑ ان کی نام نہاد مذہبی سیاست پر ایک ابدی داغ بن چکا ہے