افغان شہری عبدالمنان کی پاکستانی شہریت کیسے منظور ہوئی؟ فضل الرحمٰن سے قریبی روابط اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے استعمال سے متعلق ہوشربا انکشافات

افغان شہری عبدالمنان کی پاکستانی شہریت کیسے منظور ہوئی؟ فضل الرحمٰن سے قریبی روابط اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے استعمال سے متعلق ہوشربا انکشافات

افغان شہری عبدالمنان کی افغانستان سے پاکستانی شہریت کے حصول کا معاملہ ایک بار پھر شدت سے ابھر کر سامنے آیا ہے، جس میں سیاسی مداخلت، قواعد کی پامالی اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ فضل الرحمان کے مشکوک کردار پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان شہری عبدالمنان کی پاکستانی شہریت کے حصول اور ان کے خاندان کی قانونی حیثیت سے متعلق اہم سوالات سامنے آگئے ہیں، جن میں سابقہ افغان شہریت، سرکاری منظوریوں، قانونی دستاویزات اور اسے پاکستانی شہریت دلانے میں مولانا فضل الرحمان  کا کلیدی سیاسی کردار بھی سامنے آیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:10 سال کشمیر کمیٹی کے نام پر عیاشی، کام ٹکے کا نہیں ! مظفرآباد کے شہریوں کا فضل الرحمان سے ایوان میں معافی کا مطالبہ

ذرائع کے مطابق افغان شہری عبدالمنان کو تمام قانونی ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانی شہریت دلوانے کے معاملے میں فضل الرحمان کے مرکزی اور بلا واسطہ کردار کا انکشفا ہوا ہے، جس میں انہوں نے بطور سیاستدان سرکاری اداروں پر شدید سیاسی دباؤ کا استعمال کیا۔

فضل الرحمان کا مرکزی کردار اور سرکاری اداروں پر سیاسی دباؤ

ذرائع کے مطابق عبدالمنان کی افغان شناخت سے پاکستانی شہریت تک کے سفر کی تہوں کو جوں جوں کھنگالا جا رہا ہے، یہ حقیقت کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ اس پورے عمل کی پشت پناہی اور سرپرستی کوئی انتہائی مؤثر سیاسی شخصیت کر رہی تھی۔

 انکشافات کے مطابق فضل الرحمان نے عبدالمنان کو پاکستانی شہری بنانے کے لیے نہ صرف اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا بے دریغ استعمال کیا بلکہ وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام پر مسلسل اور شدید سیاسی دباؤ بڑھانے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے تاکہ قانونی جانچ پڑتال کے عمل کو نظر انداز کر کے من مانا فیصلہ حاصل کیا جا سکے۔

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ اور بائی پاس کیے گئے قانونی تقاضے

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت کسی بھی غیر ملکی کو شہریت دینے کا ایک طویل اور سخت ترین قانونی عمل ہے، جس میں پس منظر کی مکمل جانچ پڑتال اور تمام دستاویزات کی تصدیق شامل ہوتی ہے۔

تاہم عبدالمنان کے کیس میں فضل الرحمان کی جانب سے ڈالے گئے سیاسی دباؤ کے باعث ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور دیگر محکموں میں اس طے شدہ قانون کو دباؤ اور دھونس دھاندلی سے بائی پاس کیا گیا۔

یہ سوال اب شدت اختیار کر چکا ہے کہ فضل الرحمان کے تحریری خطوط، سفارشات اور ذاتی رابطوں کی بنیاد پر کن کن ضوابط کو نظر انداز کیا گیا۔

پورے خاندان کو شہریت دلانے میں اثر و رسوخ کا استعمال

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فضل الرحمان کا یہ دباؤ صرف عبدالمنان کی ذات تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے اس کے پورے خاندان کو یکمشت اور غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شناخت دلوانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

بالغان کی انفرادی درخواستوں سے لے کر کم سن بچوں کو سرٹیفکیٹس کے اجراء تک، ہر مرحلے پر فضل الرحمان کی جانب سے کی جانے والی سیاسی مداخلت کا عمل دخل کے بارے میں تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے۔

ریاستی اداروں کی خاموشی اور عدم تحفظ کا احساس

سرکاری فائلوں اور اندرونی ذرائع کے مطابق اگر کسی بڑی سیاسی شخصیت (فضل الرحمان ) کا سیاسی دباؤ اور پشت پناہی نہ ہوتی تو عبدالمنان کبھی بھی پاکستانی شہریت حاصل نہیں کر سکتا تھا۔

مزید پڑھیں:سندھ میں بھی نئے انتظامی یونٹس کی گونج، عوام نے صوبوں کے حق میں کھل کر حمایت کر دی

اس معاملے نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ کس طرح بااثر سیاسی شخصیات نے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے ملکی سیکیورٹی اور شہریت کے حساس قوانین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، اب اس پردہ داری سے راز اٹھنے کو ہیں۔

قومی سلامتی پر اثرات

ماضی میں بھی سیاسی شخصیات کی جانب سے غیر ملکیوں بالخصوص افغان باشندوں کی پشت پناہی کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں، لیکن کسی سیاسی رہنما کی طرف سے اداروں پر اس حد تک دباؤ ڈال کر شہریت دلوانا ملکی سلامتی اور آئین کی حکمرانی کے لیے ایک خطرناک مثال ہے۔

شہریت جیسے حساس قومی معاملے کو سیاسی رعایت اور اقربا پروری کی بھینٹ چڑھانا ریاستی ساخت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ فضل الرحمان کی جانب سے کی جانے والی تمام مراسلت، سفارشات اور دباؤ کی فائلوں کا پبلک آڈٹ کیا جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔

Related Articles