ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے 150 سے زیادہ افغان تارکین وطن کو پاکستان کے راستے کابل واپس ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 150 سے زیادہ افغان تارکین وطن کو پاکستان کے راستے واپس افغانستان (کابل) ملک بدر کرنے کا حتمی منصوبہ بنا لیا ہے۔
معروف امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے 3 نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس تازہ ترین اقدام کے تحت پہلی پرواز رواں ہفتے یا پیر کو ہی روانہ ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے وسیع تر امیگریشن کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر افغانستان سمیت کئی ممالک کے لیے سفری پابندیاں عائد کی تھیں اور اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد خصوصی تارکین وطن ویزے حاصل کرنے والے بعض افغان شہریوں کے لیے ملک بدری کے تحفظات کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔
افغان جنگ اور کابل کے زوال سے قبل امریکی فوج کی مدد کرنے والے سابق افغان اتحادیوں کے فلاحی امور کے لیے سرگرم گروپ ’افغان ایواک‘ کے مطابق، اس ملک بدری کی زد میں آنے والے افراد میں ان افغان شہریوں کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں جنہوں نے ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ خدمات انجام دی تھیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلا کا کہنا ہے کہ اس جبری ملک بدری کے نتیجے میں ان افراد کی زندگیاں براہِ راست خطرے میں پڑ سکتی ہیں کیونکہ کابل میں موجود موجودہ حکومت کے دور میں ماضی کے اتحادیوں کو شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جغرافیائی سیاسی اثرات
امریکا میں اقتدار کی تبدیلی اور سخت گیر پالیسیوں کے نفاذ کے بعد واشنگٹن اور کابل کے درمیان براہِ راست تعلقات کا فقدان ہے، جبکہ پاکستان پہلے ہی افغان مہاجرین کے بوجھ اور سرحدی سیکیورٹی کے گہرے مسائل سے نبرد آزما ہے۔
اس پس منظر میں امریکی فیصلے سے نہ صرف انفرادی زندگیاں دائو پر لگ سکتی ہیں۔