ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے عوام بھی نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے قیام کے حق میں بول پڑے۔
صوبائی دارالحکومت کراچی، ٹنڈوآدم، نوشہروفیروز اور نوابشاہ کے شہریوں نے نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے موجودہ نظام میں تبدیلی کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ برسوں سے رائج نظام عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے میں کامیاب نہیں ہوسکا، اس لیے اب اس میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔
شہریوں نے یہ بھی کہا کہ اس نطام کو الوداع کہنا چاہیے ، نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ نظامِ حکومت چلانا بھی آسان ہوگا۔
عوام نے موجودہ نظام کی ناکامی کے بعد نئی قیادت اور نئے نظام کو بہتری کی واحد امید قرار دیا، عوام کاکہنا تھا کہ جس حساب سے مہنگائی ہورہی ہے اس میں یہ نظام چلنا مشکل ہے نئے لوگوں کو آگے لانا چاہیے ۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ کراچی کے فرسودہ انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کی حمایت میں اٹھنے والی یہ آوازیں محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں، بلکہ برسوں کی بنیادی محرومیوں اور فرسودہ انتظامی نظام کے خلاف عوام کے شدید ردِعمل کی آئنہ دار ہیں۔
جب صوبائی دارالحکومت کراچی سے لے کر ٹنڈوآدم، نوشہروفیروز اور نوابشاہ جیسے اضلاع تک شہری ایک پیج پر نظر آ رہے ہوں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ ڈھانچہ عوام کو بنیادی سہولیات اور شفاف نظامِ حکومت دینے میں ناکام ہو چکا ہے، اس جمود کو توڑنے اور گورننس کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے نئی قیادت اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، جس پر وقت رہتے سنجیدہ پیشرفت ہی خطے کی پائیدار ترقی کی ضامن ہو سکتی ہے۔