سوئس سائنسدانوں کا منفرد کارنامہ: بغیر کسی بیرونی مدد کے انگلیوں پر چلنے والا انوکھا روبوٹک ہاتھ تیار

سوئس سائنسدانوں کا منفرد کارنامہ: بغیر کسی بیرونی مدد کے انگلیوں پر چلنے والا انوکھا روبوٹک ہاتھ تیار

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور حیرت انگیز کارنامہ سامنے آیا ہے ،  سوئٹزر لینڈ کی معروف سافٹ روبوٹکس لیب ‘ای ٹی ایچ زیورخ’ (ETH Zurich) کے محققین نے ایک ایسا منفرد روبوٹک ہاتھ تیار کیا ہے جو کسی بھی بیرونی مدد کے بغیر خود بخود اپنی انگلیوں پر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس انوکھے روبوٹ کو دیکھ کر فوری طور پر مشہور پاپ کلچر کے کردار ‘تھنگ’ (Thing) کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

روایتی پروگرامنگ سے ہٹ کر ‘مشین لرننگ’ کا استعمال

محققین کے لیے کسی روبوٹک ہاتھ کو چلانا ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام تھا، کیونکہ ہاتھ کی تمام انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور توازن برقرار رکھنے کے لیے انگلیوں کے درمیان بہترین آہنگی کا ہونا ضروری ہے۔

اس کٹھن مرحلے کو آسان بنانے کے لیے سائنسدانوں نے روایتی پروگرامنگ کے بجائے ‘مشین لرننگ’ اور کمپیوٹر سیمولیشن کا سہارا لیا۔ اسی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب یہ روبوٹ خود اپنا توازن برقرار رکھنا اور انگلیوں میں توازن پیدا کرنا بخوبی سیکھ چکا ہے۔

صرف چلنا ہی نہیں، بلکہ اور بھی بہت کچھ!

یہ روبوٹک ہاتھ محض چند قدم چلنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی صلاحیتیں دنگ کر دینے والی ہیں جیسے یہ مختلف اور کچی پکی سطحوں پر آسانی سے چل سکتا ہے جبکہ گرنے کی صورت میں خود بخود دوبارہ اٹھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی طرح یہ  چیزوں کو دھکیلنے اور کمپیوٹر کا کی بورڈ استعمال کرنے کے بھی قابل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پانی پر موٹر سائیکل! چینی رائیڈر کا ناممکن کو ممکن بنانے کا سنسنی خیز عالمی ریکارڈ

اس تحقیق کا اصل مقصد کیا ہے؟

اس پوری تحقیق کا بنیادی مقصد روبوٹس کو ماحول کے مطابق ڈھلنے کے قابل بنانا ہے، تاکہ مستقبل میں چھوٹے اور لچکدار روبوٹس کو ایسی تنگ یا تباہ حال امدادی جگہوں پر استعمال کیا جا سکے جہاں انسان یا بڑے روبوٹس کا پہنچنا ناممکن ہوتا ہے۔

اس پراجیکٹ سے وابستہ ڈاکٹریٹ کے طالب علم امیر حسین کاظمی کا کہنا ہے کہ “بغیر کسی بیرونی مدد کے چلنے کی یہ صلاحیت اس روبوٹک ہاتھ کو دنیا بھر میں منفرد بناتی ہے۔”

یہ بھی پڑھیں :جنوبی افریقہ میں 7.6 کلومیٹر طویل مال بردار ٹرین، عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

دوسری جانب، ای ٹی ایچ زیورخ کے اسسٹنٹ پروفیسر رابرٹ کاٹس مین کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر تھوڑا خوفناک یا انوکھا لگ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک گہرا مقصد چھپا ہے،  ان کے مطابق، بڑے روبوٹس مخصوص مقامات کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ ایسا چھوٹا ہاتھ بالکل مختلف، انتہائی تنگ اور تباہ کاریوں سے متاثرہ خطرناک مقامات پر انسانی جانیں بچانے کے کام آ سکتا ہے۔

editor

Related Articles