فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’ہندو یہودی ‘ گٹھ جوڑ پر گہری تشویش ہے، وہ خطرات پر گہری نظر اور اُمت مسلمہ کا درد رکھتے ہیں، محسن رضائی
Home - اہم خبریں - فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’ہندو یہودی ‘ گٹھ جوڑ پر گہری تشویش ہے، وہ خطرات پر گہری نظر اور اُمت مسلمہ کا درد رکھتے ہیں، محسن رضائی
ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے خطرات اور مسلم دنیا کے خلاف ہندو، یہودی گٹھ جوڑ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان سے مسلم اُمہ کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا ہے۔
ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے انتباہات کو انتہائی سنجیدہ اور وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔
🚨🇮🇷 IRANIAN SECURITY CHIEF MOHSEN REZAEI ON FIELD MARSHAL ASIM MUNIR
Mohsen Rezaei says Field Marshal Asim Munir warned of the growing Hindu-Jewish alliance against Muslims and the Israeli threat to the region, with Pakistan, Turkey and Saudi Arabia speaking out against Israel. https://t.co/0I4OGAXRFz
انہوں نے بتایا کہ کس طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے خطرے اور مسلمانوں کے خلاف تشکیل پانے والے نئے اسٹریٹجک گٹھ جوڑ کو کھل کر بے نقاب کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ معلومات اس بات کی غماز ہیں کہ خطے کے کلیدی ممالک اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی بنیاد پر مستقبل کے چیلنجز سے مکمل طور پر باخبر ہیں۔
ہندو یہودی گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف سازشیں
محسن رضائی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی بات چیت میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ کس طرح پاکستان اور مجموعی طور پر امتِ مسلمہ کے خلاف ایک خطرناک ’ہندو‘ اور ’یہودی‘ گٹھ جوڑ تشکیل دیا جا رہا ہے۔
یہ اتحاد محض وقتی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جیو پولیٹیکل چال ہے جس کا مقصد خطے کے امن کو سبوتاژ کرنا اور مسلم ریاستوں بالخصوص پاکستان کے دفاعی حصار کو کمزور کرنا ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ کے قائدین کے تشویشناک انکشافات
محسن رضائی نے بتایا کہ سعودی عرب کے رہنما جناب خالد بن سلمان نے اس تناظر میں انکشاف کیا کہ آپ کے بعد اسرائیل ترکیہ کا رخ کرے گا اور پھر وہ ہمارے پاس یعنی سعودی عرب آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس لائحہ عمل کی تصدیق ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف جناب ابراہیم کالین کے مؤقف سے بھی ہوتی ہے، جن کا کہنا تھا کہ ان تمام ممالک کے پاس اسرائیل کے مستقبل کے عزائم سے متعلق ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس اور خدشات موجود ہیں جو خطے کی بقا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
خطے کا بدلتا ہوا اسٹریٹجک منظرنامہ
واضح رہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں مسلم دنیا کے اہم ترین ممالک کی جانب سے کھل کر اس نوعیت کے بیانات دینا ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
طویل عرصے سے پسِ پردہ رہنے والے خطرات اب منظرِ عام پر آ رہے ہیں اور خطے کے دارالحکومتوں میں اس بات کا ادراک پختہ ہو چکا ہے کہ انفرادی کے بجائے اجتماعی حکمتِ عملی ہی دفاع کی واحد ضمانت ہے۔
انٹیلی جنس سطح پر ہونے والی یہ ہم آہنگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی محاذ پر نئے اتحاد جنم لیں گے۔
گزشتہ 3 سے 4 سالوں میں مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک جو سفارتی محور بن رہے ہیں، انہوں نے روایتی اتحادیوں کی صف بندی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اسرائیل کے توسیعی پسندانہ عزائم اور جنوبی ایشیا میں جیو پولیٹیکل گٹھ جوڑ اس بات کے متقاضی تھے کہ مسلم دنیا کے مؤثر ترین ممالک مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔
موجودہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اب صرف کاغذی کارروائی نہیں رہی بلکہ عملی اور جارحانہ سفارت کاری کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو آنے والے وقتوں میں عالمی طاقتوں کی پالیسیوں پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کرے گی۔