پاکستان کو افغانستان سے دہشتگردی کا سامنا، ہم نہیں چاہتے پاکستان کو نشانہ بنایا جائے، امریکا کا طالبان رجیم کو دو ٹوک پیغام

پاکستان کو افغانستان سے دہشتگردی کا سامنا، ہم نہیں چاہتے پاکستان کو نشانہ بنایا جائے، امریکا کا طالبان رجیم کو دو ٹوک پیغام

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشتگرد حملوں پر شدید تحفظات ہیں اور اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ طالبان رجیم ان حملوں کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی، ہمیں اس کا ادراک ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے۔

امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی خدشات تسلیم کرتے ہوئے مسئلے کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے۔

جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے خطرات پر کھل کر بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں پر تشویش ہے۔ پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ افغان طالبان نے ان حملوں کو روکنے اور ان کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے اپنے تحفظ کے لیے کارروائی بھی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک فوج نے افغان طالبان سے پاکستانی نہتے شہریوں پر حملے کا بدلہ لے لیا، پاک افغان بارڈر پر طالبان کا شپولا بیس کیمپ تباہ، درجن سے زائد افغان طالبان ہلاک

مارکو روبیو  نے کہا کہ واشنگٹن پاکستان کے ان تحفظات سے آگاہ ہے اور اس نے اسلام آباد کے مؤقف کو سنا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشتگردی کا نشانہ بنے۔

امریکا کا تعمیری کردار ادا کرنے کا عندیہ

مارکو روبیو نے کہا کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس معاملے میں امریکا کوئی مؤثر اور تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے تو واشنگٹن ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم انہوں نے اس حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں، اس لیے کسی ممکنہ کردار کی نوعیت اور حدود کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس اعتبار سے اہم ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں تسلیم کیا اور مسئلے کے حل کے لیے سفارتی معاونت کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

افغانستان کی سرزمین سے حملوں کا معاملہ

پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے اپنی حدود میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرنے والے مسلح گروہوں کے خلاف تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

اسلام آباد کا بنیادی مؤقف ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری پوری کریں اور ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں جو سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔

پاکستانی حکام بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خطرے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بنیادی سیکیورٹی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

اسلام آباد کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کی داخلی سلامتی، سرحدی استحکام اور شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان ماضی میں اپنی سرزمین پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق کارروائیوں کا مطالبہ برقرار ہے۔

پاکستان کی کارروائیاں اور علاقائی کشیدگی

مارکو روبیو نے اپنے بیان میں اس امر کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان نے دہشتگرد حملوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ان کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس معاملے کو محض دو ممالک کے درمیان سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی، سرحد پار حملوں کے الزامات اور عسکری کارروائیوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے۔ اس صورت حال کے باعث نہ صرف سرحدی علاقوں میں امن و استحکام متاثر ہوتا ہے بلکہ خطے میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کے امکانات بھی محدود ہوتے ہیں۔

 پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات میں سیکیورٹی کا مسئلہ

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو توقع تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بہتر ہوگا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں اور پاکستان میں ہونے والے حملوں نے تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کردیں۔

مزید پڑھیں:پاک افغان سرحد ، انگور اڈہ سیکٹر میں افغان طالبان کی شہری آبادی پر فائرنگ،پاکستانی فورسز کا بھاری ہتھیاروں سے بھرپور جواب، متعدد چیک پوسٹیں تباہ، طالبان ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے

پاکستان کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین پر موجود پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ اسلام آباد افغان طالبان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔

یہ معاملہ اب محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ علاقائی سلامتی اور عالمی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں سے بھی جڑ چکا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ کا بیان اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔

 امریکی بیان پاکستان کے لیے سفارتی اہمیت کیوں رکھتا ہے؟

مارکو روبیو کے بیان میں تین اہم پہلو نمایاں ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکا نے پاکستان کے اس مؤقف کو سنا اور تسلیم کیا ہے کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملے ایک حقیقی سکیورٹی تشویش ہیں۔ دوسرا یہ کہ واشنگٹن نے پاکستان کی جانب سے اپنے دفاع میں کارروائی کیے جانے کا بھی ذکر کیا ہے۔ تیسرا اور اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا نے ممکنہ سفارتی کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

یہ پیشکش پاکستان کے لیے سفارتی اعتبار سے اہم ہوسکتی ہے، کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ امریکا کے محدود تعلقات کے باوجود واشنگٹن کا اثرورسوخ اور بین الاقوامی سفارتی رابطے کسی ممکنہ مفاہمتی عمل میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ نے کسی براہِ راست مداخلت، طالبان پر دباؤ ڈالنے یا کسی مخصوص سفارتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔ ان کا مؤقف مشروط ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا کس نوعیت کا تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔

آئندہ پیش رفت اور پاکستان کی توقعات

پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کا سلسلہ رکے اور افغان حکام اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں۔

صرف سفارتی یقین دہانیاں کافی نہیں ہوں گی، بلکہ پاکستان ایسے قابلِ اعتماد اقدامات کا خواہاں ہے جن کے نتیجے میں سرحد پار حملوں میں کمی آئے۔

امریکی بیان سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کو اہمیت دے رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس پیشکش کو عملی شکل دینے کے لیے پاکستان، امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مؤثر رابطوں اور واضح ترجیحات کا تعین ضروری ہوگا۔

مجموعی طور پر مارکو روبیو کا بیان پاکستان کے مؤقف کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب افغانستان سے ہونے والے حملوں کی روک تھام اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔

Related Articles