جین زی سب سنبھال لے گی ! فرانس کے بعد جرمنی میں بھی مظاہرے شدت اختیار کرگئے

جین زی سب سنبھال لے گی ! فرانس کے بعد جرمنی میں بھی مظاہرے شدت اختیار کرگئے

یورپ میں جین زی نے طوفان اٹھا دیا ، فرانس اور جرمنی میں نوجوانوں کے احتجاج نے حکومتوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر اور حکومتوں کی ناکام پالیسیوں کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے میں مزید شدت آرہی ہے  جس کے بعد دونوں ممالک میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

جرمنی: ‘جین زی’ کا محاذ اور شٹ ڈاؤن کا سماں

فرانس سے اٹھنے والی احتجاج کی یہ لہر اب سرحد پار کر کے جرمنی پہنچ چکی ہے ، ہالووین کے موقع پر برلن، فرینکفرٹ، کولون اور میونخ جیسے بڑے اور اہم شہروں میں ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے،  اس تحریک کی قیادت نوجوان نسل کر رہی ہے جسے “جین زی یہ سنبھال لے گی” (Gen Z Will Take Care of It) کا نام دیا گیا ہے۔

جرمن نوجوان صرف مہنگائی کے خلاف ہی آواز نہیں اٹھا رہے، بلکہ وہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے لیے فنڈز کی شدید کمی، ماحول کی ناہموار صورتحال اور بالخصوص لازمی فوجی سروس کی ممکنہ واپسی جیسے فیصلوں کے خلاف بھی شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں : فرانس میں مہنگائی اورعوامی مسائل کیخلاف پُرتشدد احتجاج، عمارتیں نذرِ آتش

برلن کے تجارتی مراکز میں خوف کی فضا اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کسی بھی توڑ پھوڑ اور ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مشہور اور قیمتی مارکیٹوں کی دکانوں کے شیشوں پر لکڑی کے بورڈ لگا کر انہیں پوری طرح سیل کر دیا گیا ہے۔

فرانس میں صورتحال سنگین

دوسری جانب فرانس میں حالات مزید کشیدہ ہیں۔ یہاں مشہور “یلو ویسٹس” (Yellow Vests) تحریک کا تیسرا مرحلہ جاری ہے ، فرانس میں یہ احتجاج بنیادی طور پر ستمبر میں طلبہ کی جانب سے اسکولوں کی خستہ حالی کے خلاف شروع ہوا تھا، جو اب ایک سنگین قومی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے ، یہ حالات اس وقت مزید سنگین ہو گئے جب ہالووین کی رات سوشل میڈیا پر “Purge” (تمام جرائم کی کھلی چھوٹ) سے مشابہ پیغامات گردش کرنے لگے۔

 ان پیغامات نے فرانسیسی حکام کی راتوں کی نیندیں اڑا دیں،  امن و امان کی خراب صورتحال کو سنبھالنے کے لیے فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں 70,000 سے زائد اضافی پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :فرانس میں حالات بے قابو ! طلبہ کیجانب سے حکومت کو بڑا جھٹکا، مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان

پولیس نے شہریوں اور مظاہرین کو سخت خبردار کیا ہے کہ ہالووین کے نام پر چہرہ چھپانے یا نقاب اوڑھنے والوں پر 150 یورو کا فوری جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ ہالووین کے ملبوسات کے ساتھ نقلی ہتھیار ساتھ رکھنے پر تین سال تک کی قید کی سخت سزا دی جا سکتی ہے۔

یورپ کے دل میں اٹھنے والا یہ نیا بحران اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اور بالخصوص نوجوان نسل اب معاشی دباؤ اور بے روزگاری سے تنگ آ چکی ہے، اور یہ احتجاج اتنی آسانی سے تھمنے والا نہیں ہے۔

editor

Related Articles