اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان سے منسوب مدارس کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، جبکہ سی ڈی اے نے غیر قانونی تجاوزات پر جامع تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دارالحکومت اسلام آباد کے اہم ترین رہائشی سیکٹر ایف 8 میں اس وقت ایک انتہائی ناخوشگوار اور سنگین واقعہ پیش آیا جب آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر طیب سرور سی ڈی اے (کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی جانب سے غیر قانونی تجاوزات پر جاری کردہ نوٹسز کی صحافتی کوریج کر رہے تھے۔
رپورٹنگ کے دوران فضل الرحمان سے منسوب مدرسے اور ہاسٹل کی انتظامیہ یا وابستہ افراد کی جانب سے صحافی پر پالتو کتے چھوڑ دیے گئے، جس کے بعد صحافتی فرائض کی انجام دہی میں شدید رکاوٹ ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:افغان شہری عبدالمنان کی پاکستانی شہریت کیسے منظور ہوئی؟ فضل الرحمٰن سے قریبی روابط اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے استعمال سے متعلق ہوشربا انکشافات
تعزیراتِ پاکستان ‘پی پی سی’ کے تحت کسی شہری یا صحافی پر نقصان پہنچانے کی نیت سے جانور چھوڑنا ایک باقاعدہ قابلِ سزا جرم ہے جس پر سخت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ مبذول ہو چکی ہے۔
رہائشی علاقوں میں بغیر این او سی اور اوقاف رجسٹریشن کے قیام
تحقیقاتی رپورٹوں اور دستاویزات کے مطابق اسلام آباد کے مختلف رہائشی سیکٹروں میں مدارس اور ہاسٹلز قائم کرنے کے لیے سی ڈی اے، ایل ڈی اے یا مقامي میونسپل اداروں سے کمرشلائزیشن کا این او سی (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) حاصل نہیں کیا گیا۔
ادھر عوام کا کہنا ہے کہ کسی بھی رہائشی گلی یا محلے میں تجارتی، کاروباری یا ادارہ جاتی سرگرمیاں بغیر اجازت نامے کے شروع کرنا بلڈنگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عوامی ذرائع کے مطابق یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ ان عمارتوں کو ضلعی انتظامیہ یا محکمہ اوقاف کے پاس بھی رجسٹرڈ نہیں کروایا گیا تھا اور یہ مکمل طور پر بلا اجازت اور غیر قانونی طور پر چلائے جا رہے تھے۔
دینی مدارس کا تقدس، اخلاقی پہلو اور قانونی خلاف ورزیاں
دینی مدارس اور ہاسٹل خالصتاً تعلیمی اور روحانی مراکز ہوتے ہیں جہاں طلبہ دینی و اخلاقی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات اور فقہی اصولوں کے مطابق عبادات اور تعلیمی ماحول والے مقامات پر بلا ضرورت کتے رکھنا اور پالنا نا مناسب اور ممنوع سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے طہارت، پاکیزگی اور روحانی ماحول متاثر ہوتا ہے۔
ان مراکز کو سیاسی اور مذہبی طاقت کی آڑ میں استعمال کرنے اور مدارس کے تقدس کو پامال کرنے پر عوامی اور مذہبی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
کرایہ داری ایکٹ اور تھانوں میں ٹیننسی فارم جمع نہ کرانے کا تنازع
معاملے کا ایک اور اہم قانونی پہلو کرایہ داری کے قانون سے متعلق ہے۔ کرایہ داری کے نافذ العمل قوانین کے مطابق کسی بھی رہائشی مکان کو کرائے پر دیتے وقت مالکِ مکان اور انتطامیہ پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ مقامی تھانے میں ٹیننسی فارم جمع کروائیں اور کرایہ داروں کا مکمل بائیو ڈیٹا پولیس کو فراہم کریں۔
مزید پڑھیں:10 سال کشمیر کمیٹی کے نام پر عیاشی، کام ٹکے کا نہیں ! مظفرآباد کے شہریوں کا فضل الرحمان سے ایوان میں معافی کا مطالبہ
تاہم ان عمارتوں کے حوالے سے پردہ داری کا خاتمہ کرنے، گھر کے اصل مالکان کی نشاندہی اور کرائے پر دینے کے واقعی مقاصد کو سامنے لانے کے لیے پولیس کی شفاف انکوائری اور ضلعی انتظامیہ کے ریکارڈ کی چھان بین ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان مقامات کو کن سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سی ڈی اے کی تحقیقات اور پبلک سیکٹر پراپرٹی پر قبضے
فضل الرحمان پارسائی اور اصول پرستی کے دعوے تو کرتے ہیں، لیکن دارالحکومت کے اہم ترین اور گرینڈ سیکٹرز میں مدارس کے نام پر غیر قانونی طور پر زمینوں اور مکانات پر قبضہ کرنے کے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔
سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان سے منسوب تمام مدارس، گھروں اور تجاوزات کی مکمل فہرست تیار کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
دارالحکومت کی انتظامی صورتحال اور آئین کی حکمرانی


