اسلام آباد: مدرسہ تجاوزات کی کوریج پر آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں و ہراسانی، کتے چھوڑدیے گئے، تھانہ مارگلہ میں درخواست جمع
Home - آزاد انتخاب - اسلام آباد: مدرسہ تجاوزات کی کوریج پر آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں و ہراسانی، کتے چھوڑدیے گئے، تھانہ مارگلہ میں درخواست جمع
اسلام آباد میں سی ڈی اے کے نوٹس پر باضابطہ موقف لینے کے لیے جانے والے آزاد ڈیجیٹل کے صحافی طیب سرور کو جے یو آئی (ایف) سے منسلک جامعہ معارف الشریعہ کے طلبا نے اسلحہ تان کر ہراساں کیا اور کتے چھوڑ کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے ڈالیں۔
مدرسے کے طلباء کی جانب سے دھمکیاں دینے پر آزاد ڈیجیٹل کے صحافی طیب سرور کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کے نوٹس پر جے یو آئی (ایف) سے منسلک جامع معارف الشریعہ اسلام آباد کا مؤقف جاننے اور رپورٹنگ کیلئے مدرسے گیا ۔
صحافی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہاں مدرسے میں موجود طلباء کی جانب سے دھمکیاں دے کر مجھ پرکتے چھوڑے گئے اوراسلحہ تان کر ہراساں کیاگیا، صحافی نے جے یو آئی (ایف) مدرسہ کی انتظامیہ کی جانب سے ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے پر تھانہ مارگلہ میں درخواست دے دی۔
سی ڈی اے نے سیکٹر ایف ایٹ تھری میں جے یو آئی (ایف) کو رہائشی عمارت کو بطور مدرسہ استعمال کرنے اوربلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں پرنوٹس جاری کیا، بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی اورنوٹس کے حوالے سے سوال پر صحافی کوجے یو آئی (ایف)منسلک مدرسے کے کارندوں کی اسلحہ دکھا کرجان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں ۔
مدرسہ کے نام پرقائم عمارت میں کتوں اور اسلحہ بردار افراد کی موجودگی کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔
جب غیر قانونی تجاوزات پر جواب دہی کے بجائے صحافت کا گلا گھوٹنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا راستہ اپنایا جائے، تو اس سے دینی اداروں کی اخلاقی اور انتظامی حیثیت پر انتہائی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں ، اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اس واقعے پر فی الفور اور بے لاگ قانونی کارروائی نہ صرف آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، بلکہ یہ ثابت کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی بااثر تنظیم یا ادارہ آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کی پاسداری کا دعویٰ کرنے والے فضل الرحمن کا خود کو اور اپنے زیرِ اثر اداروں کو ہر قسم کے حساب کتاب اور قانون کی حکمرانی سے بالاتر سمجھنا انتہائی تشویشناک اور آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔