صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل سنی میں سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں خالی چیک پوسٹ پر پروپیگنڈا ویڈیو بنانے کی کوشش کرنے والے ‘فتنۃ الہندوستان’ کے 3 دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سنی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی ایک عارضی طور پر خالی چیک پوسٹ پر ‘فتنۃ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے دہشتگردی پر امریکا بھی بول پڑا، پاکستان کی حمایت کا اعلان
ان عناصر کا بنیادی مقصد وہاں ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر جعلی پروپیگنڈا پھیلانا تھا تاکہ اپنے بیرونی آقاؤں کو جھوٹی پیش قدمی دکھا کر خوش کیا جا سکے اور سوشل میڈیا پر بے بنیاد کامیابی کے دعوے کیے جا سکیں۔
سیکیورٹی فورسز کا بروقت جواب اور ہلاکتیں
سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی اس موجودگی اور حرکت پر فوری ردِعمل دیا اور علاقے کو گھیراؤ میں لے کر انتہائی حکمتِ عملی کے ساتھ بروقت کارروائی کی۔
فورسز کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں پروپیگنڈا ویڈیو بنانے والے 3 دہشتگرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے متعدد ساتھی شدید زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، جس سے ان کا پورا جھوٹا پلان دھرے کا دھرا رہ گیا۔
علاقے میں سرچ آپریشن اور محاصرہ
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے سنی اور اس کے گرد و نواح کے تمام ملحقہ علاقوں کا محاصرہ کر کے وسیع پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
فرار ہونے والے زخمی دہشتگردوں کی تلاش کے لیے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری تعينات کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی صورتحال اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا
حالیہ کچھ عرصے کے دوران کالعدم اور فتنہ پرور تنظیموں نے روایتی جنگی میدان میں ناکامی کے بعد سوشل میڈیا اور خاص طور پر مختصر ویڈیو پلیٹ فارمز کو گمراہ کن پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
مزید پڑھیں:قلات، جدید ترین ٹیکنالوجی سے دہشتگردوں کی ڈرون حملے کی کوشش ناکام، فورسز نے آپریٹر کو موقع پر ہی ڈھیر کردیا
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عارضی طور پر چھوڑی گئی یا گشت کے لیے خالی کی گئی پوسٹوں پر جا کر جعلی ویڈیوز بنانا ان کا پرانا حربہ رہا ہے، تاہم فورسز کے انٹیلی جنس نیٹ ورک نے اس بار ان کا یہ گھناؤنا کھیل موقع پر ہی ختم کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل دہشتگردی کا توڑ اور مستقبل کے اثرات


