فضل الرحمٰن کی جوابدہی کا وقت آگیا ! اربوں کے فنڈز، غیر قانونی رجسٹریشن و مدارس کی مالی شفافیت اور طلبہ کے سیاسی استعمال پر کڑے سوالات سامنے آگئے

فضل الرحمٰن کی جوابدہی کا وقت آگیا ! اربوں کے فنڈز، غیر قانونی رجسٹریشن و مدارس کی مالی شفافیت اور طلبہ کے سیاسی استعمال پر کڑے سوالات سامنے آگئے

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمٰن پر دینی مدارس کی باگ ڈور اور سیاسی اثرورسوخ کے نام پر قائم اربوں روپے کے غیر شفاف نظام سے متعلق کڑا احتساب شروع ہو چکا ہے، مالی شفافیت، باضابطہ قانونی رجسٹریشن اور تعلیمی مقاصد کے لیے آئے ہوئے طلبا کو سیاسی اکھاڑے کا ایندھن بنانے پر اٹھنے والے سنگین سوالات نے جے یو آئی کی قیادت کو شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب نعرے بازی اور مزاحمتی بیانیے کے پیچھے چھپنے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور فضل الرحمٰن کو ان تمام ناگزیر سوالات کے دوٹوک اور دستاویزی جوابات دینا ہوں گے۔

برصغیر پاک و ہند بالخصوص پاکستان میں دینی مدارس ہمیشہ سے اسلامی تعلیمات کے فروغ کا بنیادی مرکزرہے ہیں تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں کے انتظامی ڈھانچے، سرکاری رجسٹریشن، مالیاتی ذرائع اور ان کے پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے معاملے پر سنجیدہ بحثیں جنم لیتی رہی ہیں،  وفاق المدارس العربیہ پاکستان ملک کا سب سے بڑا دینی بورڈ ہے، جس کے تحت ہزاروں مدارس اور لاکھوں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں ، گذشتہ کچھ برسوں کے دوران ریاستی سطح پر مدارس کی باضابطہ رجسٹریشن، ان کے بنک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال اور عطیات و زکوٰۃ کے شفاف آڈٹ کے لیے قانون سازی اور ضوابط سخت کیے گئے ہیں۔

 اس پس منظر میں جامعہ معارف الشریعہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں وفاق المدارس کے اندرونی اُمور، سیاسی سرگرمیوں بالخصوص 2019 کے آزادی مارچ میں طلبہ کی شرکت، اور سینیٹ میں پیش کیے جانے والے اعدادوشمار نے اس بحث کو مزید گرما دیا ہے کہ آیا یہ مقدس ادارے دینی تعلیم کے لیے خود مختار ہیں یا انہیں شخصی، خاندانی اور سیاسی مقاصد کی تکمیل  کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہاں ہم  ایسے سوالات سامنے رکھ رہے ہیں جو محض وضاحت طلب نہیں کرتے بلکہ مدارس کے انتظامی ڈھانچے، مالی شفافیت، رجسٹریشن، ذاتی اثرورسوخ اور طلبہ کے سیاسی استعمال کے حوالے سے  فضل الرحمن سے جوابدہی کا تقاضا کرتے ہیں ۔

مدارس کی ملکیت، جامعہ معارف الشریعہ اور تنظیمی اختیارات 

جامعہ معارف الشریعہ، ڈیرہ اسماعیل خان کی سربراہی اور اس کے مالی معاملات کے گرد سوالات جنم لے رہے ہیں  ،  سن 2021 میں وفاق المدارس کے اعلان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کو اس جامعہ کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا ،  بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ادارے کی انتظامی ذمہ داریوں، مالی اختیارات اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات عوام اور متعلقہ اداروں کے سامنے لانے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟  کیا وفاق الدارس کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے  کے پاس بیک وقت ایک بڑے دینی ادارے کی باگ ڈور اور قومی سیاست کی قیادت کا دوہرا نظام مفادات کا ٹکراؤ پیدا نہیں کرتا؟

مزید برآں، وفاق المدارس کی مرکزی سربراہی اور ہزاروں انفرادی مدارس کی ملکیت میں کیا  فرق ہے؟  وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے اختیار صرف تنظیمی اور تعلیمی اُمور تک محدود ہونا چاہیے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ شخصی اثرورسوخ کی وجہ سے انفرادی مدارس کے اندرونی انتظامی اور مالی فیصلوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جولائی 2026 میں وفاق المدارس کے اہم عہدوں پر تقرریوں کا جو طریقۂ کار اپنایا گیا، اس کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان موجود ہیں۔ کیا ان تقرریوں کے لیے کوئی میرٹ، باقاعدہ انٹرویوز اور مستند انتخابی ریکارڈ موجود ہے یا سب کچھ روایتی و شخصی پسند ناپسند کی بنیاد پر طے پایا؟

مالی شفافیت، عطیات کا آڈٹ اور سیاسی اکاؤنٹس کی علیحدگی

دینی مدارس کی بقا کا دارومدار زکوٰۃ، عطیات اور فطرانہ پر ہوتا ہے جو عوام جذبہ خیر سگالی کے تحت جمع کرواتے ہیں یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان فنڈز کا حساب کون دیتا ہے؟ کیا تمام متعلقہ مدارس کے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس موجود ہیں؟ کیا ان کی آزادانہ آڈٹ رپورٹس اور آمدن و اخراجات کی تفصیلات عوام اور حکومت کو فراہم کی جاتی ہیں؟ سب سے اہم اور حساس نکتہ مدارس کے بنک اکاؤنٹس اور جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی و جماعتی اکاؤنٹس کی علیحدگی کا ہے۔

عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ آیا مدارس کے نام پر اکٹھی ہونے والی رقوم کو کسی بھی سطح پر سیاسی سرگرمیوں، جلسوں، دھرنوں، لانگ مارچ یا جماعتی اخراجات کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟ اس بات کی تصدیق صرف ایک شفاف اور آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس سے گریز کرنے پر ہمیشہ شک کی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔

رجسٹریشن کے قوانین اور سرکاری ضوابط سے گریز کی وجوہات

ریاست کی جانب سے تمام دینی مدارس کو ضابطے میں لانے کے لیے قانونی اقدامات کیے گئے ہیں تاہم  خیبرپختونخوا میں 2025 کے مدارس رجسٹریشن قواعد پر مکمل عمل درآمد کو یقینی نہ بنانا ایک بڑا انتظامی سوال ہے ، جب دسمبر 2024 میں سینیٹ کو 17,738 رجسٹرڈ مدارس اور تقریباً 22 لاکھ طلبہ کے اعدادوشمار پیش کیے گئے، تو یہ دیکھنا ضروری ہو گیا کہ ان میں سے کتنے مدارس براہِ راست متعلقہ وفاق سے وابستہ ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مدارس کی نئی رجسٹریشن کے لیے مخصوص سرکاری نظام پر جو اعتراضات اٹھائے تھے، ان کی قانونی اور انتظامی وجوہات کیا تھیں؟ کیا ریاست کے اندر ایک متوازی نظام چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرتا ہے؟ جامعہ حلیمیہ سمیت مختلف اداروں میں انتظامی ڈھانچے پر اٹھنے والے اختلافات یہ ثابت کرتے ہیں کہ شخصی اور خاندانی اثرورسوخ کو ادارہ جاتی قوانین پر فوقیت دی جا رہی ہے، جو خود تعلیمی اداروں کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

طلبہ کا سیاسی استعمال اور 2019 کا آزادی مارچ 

مدارس کے تقدس کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ان کے طالبعلموں کو تعلیمی سرگرمیوں تک محدود رکھا جائے، نہ کہ سیاسی اکھاڑے کا ایندھن بنایا جائے ، سال  2019 کے آزادی مارچ میں مدارس کے طلبہ کی شرکت کس کے حکم اور کس انتظام کے تحت ہوئی؟ کیا طلبہ کو تعلیمی اداروں سے سیاسی سرگرمیوں میں لایا گیا؟ کیا والدین کی رضامندی، طلبہ کی آزادانہ مرضی اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا گیا تھا؟ کیا دینی اداروں کے ناظمین نے معصوم طلبہ کو سیاسی مقاصد کے لیے سڑکوں پر لاکر ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا؟

یہ بھی پڑھیں : مفاد ملے تو ریاست ماں کے جیسی ، اور نہ ملے تو زہر افشانی شروع ! فضل الرحمٰن کی دوغلی سیاست کا پول ڈی آئی خان کے عوام نے کھول دیا

اس وقت کے ممتاز عالمِ دین مفتی محمد نعیم نے کھل کر مدارس کے طلبہ کی آزادی مارچ میں شمولیت پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے ،  کیا اس وقت اس تنقید کا کوئی معقول جواب دیا گیا تھا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب دیے بغیر کوئی بھی دینی رہنما اپنی جماعت کی اخلاقی برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

شفافیت کے حساب اور جوابات  کب ؟

چند اور بنیادی سوالات جن سے  فضل الرحمان گریز نہیں کرسکتے ان کا جواب دینا بے حد ضروری ہے  ، وہ یہ کیا فضل الرحمن  اپنے زیراثر مدارس کی مکمل فہرست، رجسٹریشن کی حیثیت اور انتظامی سربراہان کے نام عوام کے سامنے لائیں گے؟ کیا  گزشتہ پانچ سال کے عطیات، زکوٰۃ، چندے اور اخراجات کا آزادانہ آڈٹ کروانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا آپ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ مدارس کے مالی وسائل جمعیت کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوتے؟ کیا آپ مدارس کے طلبہ کو سیاسی جلسوں، لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں سے الگ رکھنے کا واضح اعلان کریں گے؟ کیا آپ مدارس کے انتظامی معاملات کو خاندانی، شخصی اور سیاسی اثرورسوخ سے آزاد رکھنے کی حمایت کرتے ہیں؟

اصل سوال یہ بھی ہے کے فضل الرحمن کے مدارس دینی تعلیم و تربیت کے خودمختار ادارے ہیں یا انہیں سیاسی اثرورسوخ، مالی وسائل اور طلبہ کی سیاسی صف بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں، دستاویزی ثبوت، شفاف آڈٹ اور قابلِ تصدیق ریکارڈ سے دینا ہوگا ۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مذہب کارڈ اور دینی مدارس کے نیٹ ورک کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی روایت بہت پرانی ہے  ، جب ایک فضل الرحمن  جیسی شخصیت کے ہاتھ میں مذہبی بورڈ کی طاقت بھی ہو اور ایک سیاسی جماعت کی باگ ڈور بھی، تو مفادات کا تصادم لازمی امر بن جاتا ہے ،  ایک طرف ریاست مدارس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ان کی رجسٹریشن کو لازم بنانے اور ان کے مالیاتی نظام میں شفافیت لانے کے لیے کوشاں ہے، تو دوسری طرف یہ مذہبی نام نہاد اس عمل کو اپنی سیاسی اجارہ داری کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

جامعہ معارف الشریعہ کی مالیات سے لے کر 2019 کے احتجاجی مظاہروں تک، تمام حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مدارس کی آڑ میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا دراصل خود ان تعلیمی اداروں کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہے،  اگر فضل الرحمٰن اور ان کے رفقا ان الزامات سے دامن چھڑانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس نعرے بازی کا نہیں بلکہ دستاویزی ثبوت، شفاف آڈٹ، اور قابلِ تصدیق ریکارڈ پیش کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ بصورت دیگر، یہ سوالات ہمیشہ کے لیے ان کی سیاسی ساکھ پر سوالیہ نشان بنے رہیں گے۔

editor

Related Articles