پیٹرولیم لیوی میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان، حکومت نے نیا فارمولا جاری کردیا

پیٹرولیم لیوی میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان، حکومت نے نیا فارمولا جاری کردیا

پیٹرولیم مصنوعات کے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے اقدامات شروع کر دیے، پیٹرولیم لیوی میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے  جبکہ پیٹرولیم ڈویژن نے آئل ریفائنریز کے لیے قیمتوں کے تعین کا نیا فارمولا جاری کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے فارمولے کے تحت اب آئل ریفائنریز بھی پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اپنا حصہ ڈالیں گی، جس کا مقصد صارفین پر عائد پیٹرولیم لیوی کا بوجھ کم کرنا ہے ، ذرائع کے مطابق درآمدی کارگو پر عائد ایکسیڈینٹل چارجز کو مارچ سے پہلے کی سطح پر مقرر کیا جائے گا، جبکہ اس اقدام سے حاصل ہونے والی بچت پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

ریفائنری ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے طریقہ کار کے نتیجے میں فی لیٹر لیوی میں 10 سے 15 روپے تک کمی ممکن ہے، تاہم اس فارمولے کے باعث آئل ریفائنریز کو فی لیٹر 30 روپے سے زائد نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

نئے فارمولے کے مطابق پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے اصل درآمدی کارگو کی لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر اصل درآمدی لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری درآمدی کارگو کا پریمیم اور دیگر اضافی اخراجات کو بنیاد بنایا جا سکے گا۔

حکومتی فارمولے کے تحت آئل ریفائنریز آئندہ 30 روز تک پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی سطح پر برقرار رکھ سکیں گی۔ اس کے علاوہ پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی بھی اسی سطح پر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ، صارفین کو روزانہ کتنے گھنٹے گیس ملنے کا امکان؟

ذرائع کے مطابق درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کی رقم متعلقہ ریفائنریز کو پیٹرولیم لیوی کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوگی۔ لیوی میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کا فائدہ صرف پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں پیٹرولیم ڈویژن نے تمام آئل ریفائنریز کو باضابطہ خطوط ارسال کر دیے ہیں، جن میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی فروخت کی تفصیلات اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ریفائنریز کو فروخت کی رپورٹس کے ساتھ سی پی آرز اور متعلقہ چالان بھی جمع کرانا ہوں گے۔

اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن اضافی لیوی کی ادائیگیوں اور متعلقہ مالی حسابات کی جانچ پڑتال کرکے ان کی تصدیق کریں گے۔

دوسری جانب ریفائنری ذرائع نے حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے  ،  ذرائع کے مطابق ریفائنریز اس نئے فارمولے پر نظرثانی کے لیے حکومت کو خط لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں، کیونکہ ان کے بقول اس سے ریفائننگ کے شعبے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، حکومت کے نئے فارمولے پر عمل درآمد کے بعد پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ کمی اور صارفین کو ملنے والے ریلیف کی صورتحال واضح ہوگی۔

editor

Related Articles