معصوم بچوں سے سیکیورٹی فورسز تک سب نے قربانیاں دیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے، فیصل کریم کنڈی کا خطاب

معصوم بچوں سے سیکیورٹی فورسز تک سب نے قربانیاں دیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے، فیصل کریم کنڈی کا خطاب

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن کے قیام کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی و نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر تمام طبقات کو دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا، جبکہ صوبے کے قدرتی وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے۔

پشاور میں دربارِ عالیہ مرشد آباد شریف کے عرس کی روحانی و پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس بابرکت تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کے درمیان متعدد سیاسی یا انتظامی امور پر اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن صوبے کی بہتری اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں 13 سال کی کرپشن کا حساب ہوگا، بڑے مافیاز اور بے نامی جائیدادوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کا اعلان، فیصل کریم کنڈی

ان کا کہنا تھا کہ علمائے کرام کی باتوں کو عوام انتہائی توجہ سے سنتے اور ان کا احترام کرتے ہیں، لہٰذا علمائے کرام کو معاشرے میں امن، وحدت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔

قربانیوں کا اعتراف اور امن کو پہلی ترجیح بنانے کا عزم

گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

 اس مشکل سفر میں اسکول کے معصوم بچوں سے لے کر سیکیورٹی فورسز، پولیس اہلکاروں اور صحافیوں تک، ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے امن کی خاطر بے شمار اور لازوال قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک وہ اس منصب پر فائز ہیں، ان کی سب سے پہلی ترجیح عوام کا تحفظ اور صوبے کو دوبارہ ‘پھولوں کا گہوارہ’ بنانا ہے۔

ہمارے بچے ایک پرُامن اور محفوظ زندگی گزارنا چاہتے ہیں، جبکہ عوام روزگار اور کاروبار کے وافر مواقع کے خواہمند ہیں۔

قدرتی وسائل، تاریخی ورثہ اور کھیل کا بے پناہ ٹیلنٹ

اپنے خطاب میں گورنر نے صوبے کی قدرتی اور انسانی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ہر شعبے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

کھیلوں کے میدان میں صوبہ بے پناہ ٹیلنٹ سے مالا مال ہے، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے 50 فیصد سے زیادہ کھلاڑیوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا صوبہ قدرتی وسائل جیسے کہ گیس، معدنیات، بجلی اور تیل کے وافر ذخائر سے مالا مال ہے، جبکہ دنیا کی قدیم ترین اور عظیم الشان ‘گندھارا تہذیب’ ہمارے صوبے کا فخر اور تاریخی ورثہ ہے۔

عوامی ترجیحات اور مشترکہ لائحہ عمل

فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ صوبے کے تمام قدرتی و مالی وسائل پر سب سے پہلا حق خیبرپختونخوا کے عوام کا ہے۔ صوبے اور شہر پشاور کی بہتری کے لیے دی جانے والی تمام مثبت اور اچھی تجاویز کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ ہم سب کی مشترکہ قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اپنے صوبے کی ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے مل جل کر اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پائیدار اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

موجودہ سیکیورٹی چیلنجز

خیبرپختونخوا کو دہائیوں سے انتہا پسندی اور سیکیورٹی بحران کا سامنا رہا ہے، جس نے ناصرف مقامی معیشت اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ تجارتی اور تعلیمی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا کے عوام کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکل آئے، گورنر فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں ہزاروں افراد کی ریلی میں شرکت

ماضی میں گورنر ہاؤس اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلف حکمت عملیوں پر کام کیا جاتا رہا ہے، تاہم دربارِ عالیہ جیسے عوامی و مذہبی اجتماعات کے ذریعے امن کا پیغام دینا ایک اہم پیش رفت ہے۔

مذہبی رہنماؤں، سیاسی قوتوں اور عام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیے بغیر خطے کو درپیش معاشی و امن و امان کے چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں ہے۔

صوبائی خودمختاری اور ترقیاتی سمت

گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے قدرتی وسائل پر صوبائی عوام کے پہلے حق اور گندھارا تہذیب جیسے سیاحتی و تاریخی اثاثوں کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں صرف سیکیورٹی اقدامات کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے معاشی خودمختاری اور انسانی وسائل کی ترقی ضروری ہے۔

کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں نوجوانوں کی شمولیت کو فروغ دے کر اور گندھارا تہذیب کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے خیبرپختونخوا کو ایک مثبت اور خوشحال خطے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

Related Articles