غیر قانونی سمز، جعلی واٹس ایپ اکاؤنٹس اور فراڈ کا گھناؤنا دھندا، این سی سی آئی اے نے 11 ملزمان کا نیٹ ورک جڑ سے اکھاڑ دیا

غیر قانونی سمز، جعلی واٹس ایپ اکاؤنٹس اور فراڈ کا گھناؤنا دھندا، این سی سی آئی اے نے 11 ملزمان کا نیٹ ورک جڑ سے اکھاڑ دیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر قانونی موبائل سمز کی خرید و فروخت اور ان کے ذریعے سائبر فراڈ کرنے والے مبینہ منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اسلام آباد نے کارروائی کرتے ہوئے 11 افراد کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ درج کرلیا ہے، جبکہ متعدد نامزد ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے موبائل سمز حاصل کرنے، انہیں فعال کرنے اور آگے فروخت کرنے کے کاروبار میں ملوث تھے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مختلف شہریوں کی شناختی معلومات استعمال کرکے ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے نام پر موبائل سمز حاصل کرتے تھے۔

جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور فراڈ کے لیے سمز کا استعمال

تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی موبائل سمز کو مختلف سائبر جرائم میں استعمال کیا جاتا تھا۔ ان سمز کے ذریعے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے جاتے اور ان اکاؤنٹس کو مختلف فراڈ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :غیر قانونی کال سینٹرز کا دھندا نہیں چلنے دیں گے،ڈی جی این سی سی آئی اے کا دوٹوک پیغام

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر موبائل سمز کی غیر قانونی رجسٹریشن، ایکٹیویشن اور فراہمی کے ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس کے ذریعے شہریوں کی شناختی معلومات کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا۔

11 افراد مقدمے میں نامزد

مقدمے میں عبدالہادی، محسن سلیم بٹ، زہاق، زین، عدیل خان، دانیال، عظمیٰ اور حسن وقار احمد سمیت 11 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد افراد کے واٹس ایپ اکاؤنٹس اور موبائل نمبرز کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔

این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کرنے کے بعد واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ غیر قانونی سمز کی خرید و فروخت میں ملوث نیٹ ورک کے دیگر افراد، اس کے طریقہ کار اور سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے ذرائع کا پتا لگایا جاسکے۔

editor

Related Articles