آزاد ڈیجیٹل کےبعد فضل الرحمان کے غنڈوں کی طرف سے ایک اور صحافی کو ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آگیا

آزاد ڈیجیٹل کےبعد فضل الرحمان کے غنڈوں کی طرف سے ایک اور صحافی کو ہراساں  کرنے کا واقعہ سامنے آگیا

  آزاد ڈیجیٹل کے  صحافی کے بعد فضل الرحمان کے غنڈوں کی طرف سے ایک اور صحافی کو ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آگیا ،صحافی برادری مولانا فضل الرحمان کے نشانے پر آگئی سچ بولنا بھی فضل الرحمان کے نزدیک گناہ بن گیا، فضل الرحمان کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آنے لگے صحافی کو ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا صحافی  فضل الرحمان کے نشانے پر آگئے ،پی کنیکٹ کے صحافی کو ہراساں کیا ہے ۔

مولانا فضل الرحمان کے بیرونِ ملک اثاثوں اور سرگرمیوں سے متعلق سچائی سامنے لانے پر ‘پی کنیکٹ’ کے معروف صحافی ادریس عباسی پر فضل الرحمان کے پیروکاروں اور غنڈوں کی جانب سے وحشیانہ تشدد اور ہراسانی کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کے بعد اب  پی کنیکٹ  کے ادریس عباسی کو نشانہ بنائے جانے سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ صحافی برادری مولانا کے پیروکاروں کے زہریلے نشانے پر آ چکی ہے۔

  صحافی ادریس عباسی نے مولانا فضل الرحمان کی پالیسیوں اور ان کے بیرونِ ملک اثاثوں پر سوالات اٹھائے تو ان کے غنڈے آپے سے باہر ہو گئے اور ادریس عباسی کو بدترین  ہراسانی کا نشانہ بنا ڈالا۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کے پیروکاروں کے نزدیک سچ بولنا اور حقائق سامنے لانا جرم اور “گناہ” بن چکا ہے، جس کی سزا صحافیوں پر حملے کر کے دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :احتساب کے نام پر سانپ سونگھ جاتا ہے،فضل الرحمان  میں ہمت ہے تو اپنے سارے اثاثے  ریاست کے سامنے لا کر رکھیں،مزمل سہروردی

ادریس عباسی کی ہراسانی کے  اس تاز ترین اور بھیانک واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ خلیجی ریاستوں کی جائیدادوں پر سے پردہ اٹھنے پر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر فاشسٹ ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔

صحافتی تنظیموں نے ادریس عباسی پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صحافت کی آزادی پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مولانا کے غنڈہ راج کا خاتمہ کر کے ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔

editor

Related Articles