سیاسی میدان کے بعد اب نجی زندگی میں بھی ناکامی کا تمغہ، سابق سینیٹر مشتاق احمد کی نجی زندگی کا شیرازہ بکھر گیا، اہلیہ نے خلع لے لی
Home - آزاد انتخاب - سیاسی میدان کے بعد اب نجی زندگی میں بھی ناکامی کا تمغہ، سابق سینیٹر مشتاق احمد کی نجی زندگی کا شیرازہ بکھر گیا، اہلیہ نے خلع لے لی
سابق سینیٹر مشتاق احمد اور ان کی اہلیہ حمیرا طیبہ کے درمیان ازدواجی تعلق ختم ہوگیا۔ اسلام آباد کی فیملی کورٹ نے حمیرا طیبہ کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کرتے ہوئے نکاح ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ خاتون شوہر کے ساتھ مزید ازدواجی زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں اور مصالحت کی کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔
فیملی کورٹ کی جج امبرین اقبال چوہدری نے 28 اکتوبر 2026 کو کیس کا فیصلہ سنایا۔ عدالتی ڈگری شیٹ کے مطابق حمیرا طیبہ نے 21 مئی 2026 کو دعویٰ دائر کیا تھا جس میں نکاح خلع کی بنیاد پر ختم کرنے کے ساتھ کم عمر بچوں کے نان نفقہ، غیر شادی شدہ بیٹیوں کے تعلیمی اخراجات اور دیگر متعلقہ ریلیف کی استدعا بھی کی گئی تھی۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق سماعت کے دوران مصالحتی کارروائی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ فریقین کے درمیان قبل از سماعت مصالحت کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ اس کے بعد حمیرا طیبہ نے عدالت میں بیانِ حلفی ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ وہ مصالحت کے لیے تیار نہیں اور شوہر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے مطابق ازدواجی زندگی نہیں گزار سکتیں۔ انہوں نے شوہر کے لیے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ رہنے سے انکار کیا۔
عدالت نے خاتون کے بیان اور مصالحتی رپورٹ کی روشنی میں قرار دیا کہ مصالحت کی کارروائی ناکام ہوچکی ہے جس کے بعد ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10(4) کے تحت خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرنے کی ڈگری جاری کردی گئی۔ فیصلے کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان نکاح خلع کی بنیاد پر تحلیل ہوگیا ہے۔
حق مہر کے حوالے سے عدالتی حکم نامے میں درج ہے کہ دونوں فریقین نے خلع کی شرائط کے مطابق ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کے دعوے سے انکار کیا ہے۔ عدالت نے اسی بنیاد پر ڈگری شیٹ تیار کرنے کا حکم دیا۔
بچوں کے نان نفقہ، غیر شادی شدہ بیٹیوں کے تعلیمی اخراجات اور دیگر متعلقہ استدعاؤں پر مشتمل باقی دعویٰ بھی درخواست گزار کے 7 اکتوبر 2026 کو ریکارڈ کرائے گئے بیان کی روشنی میں واپس لینے پر خارج کردیا گیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ خلع کی ڈگری کی مصدقہ نقل مشتاق احمد کے گھر کے پتے اور متعلقہ یونین کونسل کو بھجوائی جائے تاکہ عدالتی حکم پر مزید قانونی کارروائی مکمل کی جاسکے۔
عدالت نے ضروری کارروائی اور ریکارڈ کی تکمیل کے بعد کیس فائل ریکارڈ روم میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔